اسلام آباد ویب ڈیسک
RoozNews8 سپریم کورٹ آف پاکستان نے فوجداری مقدمات میں نامزد سرکاری ملازمین کے حق میں ایک بڑا اور تاریخی فیصلہ سناتے ہوئے حکم دیا ہے کہ اگر کوئی سرکاری ملازم عدالت سے بری ہو جاتا ہےتو اسے ملازمت سے علیحدگی کے دورانیے کی مکمل تنخواہ اور تمام مراعات دی جائیں
ملازمت سے علیحدگی کا وقت ڈیوٹی تصور ہوگا
عدالتِ عظمیٰ نے اپنے فیصلے میں اہم آبزرویشن دیتے ہوئے واضح کیا کہ مقدمے بازی یا معطلی کے دوران ملازم کی نوکری سے علیحدگی کے جتنے عرصے کا وقت ہوگا، اسے "ڈیوٹی پر گزارا گیا وقت Period spent on duty ہی تصور کیا جائے گااس کا مطلب یہ ہے کہ ملازم کو اس دوران کے تمام واجبات حاصل کرنے کا قانونی حق حاصل ہے
محکمہ تعلیم کے پی KP کو 2 ماہ کی مہلت
سپریم کورٹ نے یہ احکامات ایک کیس کی سماعت کے دوران جاری کیے عدالت نے محکمہ تعلیم خیبر پختونخوا KPK کو سخت ہدایت جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ قانون کے مطابق متاثرہ ٹیچر کی سابقہ تنخواہوں، بقایاجات اور دیگر مراعات کے معاملے کا 2 ماہ کے اندر اندر حتمی فیصلہ کرے
ملازمین کے لیے بڑی ریلیف
قانونی ماہرین کے مطابق اس فیصلے سے ان ہزاروں سرکاری ملازمین کو بڑا ریلیف ملے گا جو جھوٹے یا فوجداری مقدمات کی وجہ سے سالہا سال معطل رہتے ہیں یا نوکری سے الگ کر دیے جاتے ہیں اور بعد میں عدالت سے بے گناہ ثابت ہونے کے باوجود اپنے مالی حقوق کے لیے محکموں کے چکر کاٹتے ہیں

No comments:
Post a Comment