بین الاقوامی تعلقات کے معروف ماہر اور معروف امریکی ماہرِ تعلیم پروفیسر جان میئر شائمر نے سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی نفسیات اور خارجہ پالیسی کے حوالے سے ایک انتہائی دلچسپ اور کاٹ دار تبصرہ کیا ہے، جو سوشل میڈیا اور سیاسی حلقوں میں توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے
پروفیسر میئر شائمر کا کہنا ہے کہ ٹرمپ مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال اور بالخصوص ایران کے معاملے پر ایک عجیب و غریب نفسیاتی الجھن کا شکار نظر آتے ہیں
ٹرمپ کی نفسیاتی کیفیت ایک دلچسپ تجزیہ
بلاگ پڑھنے والوں کے لیے پروفیسر میئر شائمر کے اس تبصرے کا خلاصہ کچھ یوں ہے
پہلا مرحلہ مغالطہ ڈونلڈ ٹرمپ اچانک یہ بھول جاتے ہیں کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری سرد جنگ اور تزویراتی معرکے کا اصل فاتح ایران ہے وہ اس خوش فہمی میں مبتلا ہو جاتے ہیں کہ امریکہ ہی سب سے بڑی طاقت اور اصل فاتح ہے
دوسرا مرحلہ دھمکیاں اور غصہ اسی فاتحانہ موڈ میں آ کر وہ ایران کے خلاف سخت زبان استعمال کرتے ہیں، گالیاں بکتے ہیں اور خوفناک دھمکیاں دینا شروع کر دیتے ہیں
تیسرا مرحلہ حقیقت کا جھٹکا کچھ دیر شور شرابا کرنے اور دھمکیاں دینے کے بعد اچانک انہیں تلخ حقیقت یاد آتی ہے انہیں احساس ہوتا ہے کہ زمینی حقائق مختلف ہیں اور امریکہ کو تو اس خطے میں شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے
آخری مرحلہ پشیمانی: حقیقت کا یہ جھٹکا لگتے ہی ٹرمپ کا سارا غصہ کافور ہو جاتا ہے اور وہ بالکل خاموش اور پشیمان ہو کر بیٹھ جاتے ہیں
"ٹرمپ پہلے امریکہ کو فاتح سمجھ کر دھمکیاں دیتے ہیں پھر اچانک حقیقت یاد آنے پر پشیمان ہو کر بیٹھ جاتے ہیں پروفیسر میئر شائمس
تجزیہ کاروں کی رائے
پروفیسر میئر شائمر کا یہ تبصرہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ واشنگٹن کے مقتدر حلقے اب اس بات کو تسلیم کرنے پر مجبور ہو چکے ہیں کہ مشرقِ وسطیٰ میں امریکی پالیسیاں ناکام رہی ہیں اور ایران نے اپنی تزویراتی حکمتِ عملی Strategic Depth کے باعث خود کو ایک مضبوط قوت کے طور پر منوایا ہے ٹرمپ کا بار بار جارحانہ بیانات دینا اور پھر پیچھے ہٹ جانا اسی اندرونی بوکھلاہٹ کا نتیجہ ہے

No comments:
Post a Comment