نومنتخب امریکی نائب صدر جے ڈی وینس JD Vance نے اسرائیل اور اس کی موجودہ قیادت کے حوالے سے ایک اہم اور کھل کر بات کی ہے انہوں نے واضح کیا ہے کہ اسرائیل کی پالیسیوں یا وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو پر کی جانے والی ہر تنقید کو یہود دشمنی Antisemitism سے نہیں جوڑا جا سکتا
ایک حالیہ انٹرویو کے دوران جے ڈی وینس کا کہنا تھا کہ ایک جمہوری ریاست اور اس کے رہنماؤں کے اقدامات پر بحث کرنا اور ان پر تنقید کرنا سیاسی آزادی کا حصہ ہے اور اسے بلاوجہ نفرت انگیز پروپیگنڈا قرار دینا درست نہیں ہے سیاسی تنقید اور یہود دشمنی میں فرق ضروری ہے
جے ڈی وینس نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں یہود دشمنی کی حقیقی شکل اور جائز سیاسی اختلافِ رائے میں واضح فرق کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا اگر کوئی شخص اسرائیل کی حکومت کی کسی خاص حکمتِ عملی یا وزیر اعظم نیتن یاہو کے فیصلوں پر تنقید کرتا ہے تو اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ وہ یہودی برادری سے نفرت کرتا ہے۔ سیاست اور پالیسیوں پر اختلاف رائے دنیا بھر کی جمہوریتوں کا بنیادی حسن ہے
عالمی منظر نامے پر اس بیان کی اہمیت
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق، جے ڈی وینس کا یہ بیان اس لیے بھی انتہائی اہمیت کا حامل ہے کیونکہ ماضی میں امریکی انتظامیہ کی جانب سے اسرائیل پر کسی بھی قسم کی تنقید کو اکثر سخت ردعمل کا سامنا کرنا پڑتا رہا ہے تاہم حالیہ مہینوں میں غزہ کی صورتحال اور نیتن یاہو حکومت کی پالیسیوں پر خود امریکہ کے اندر اور بین الاقوامی سطح پر دباؤ میں مسلسل اضافہ ہوا ہے
یاد رہے کہ جے ڈی وینس نے جہاں ایک طرف سیاسی تنقید کو جائز قرار دیا وہاں انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ امریکہ اور اسرائیل کے سٹریٹجک تعلقات اپنی جگہ مضبوط رہیں گے لیکن پالیسیوں پر صحت مند بحث کے دروازے بند نہیں کیے جا سکتے

No comments:
Post a Comment