وزیراعظم شہباز شریف ایک اہم اور حساس سفارتی مشن پر سوئٹزرلینڈ پہنچ گئے ہیں ذرائع کے مطابق اس دورے کا بنیادی اور اہم ترین ایجنڈا ایران اور امریکہ کے مابین جاری کشیدگی کو کم کرنا اور دونوں ممالک کے درمیان ایک ممکنہ معاہدے یا مفاہمت کے لیے پسِ پردہ سفارت کاری Backchannel Diplomacy کو آگے بڑھانا ہے
دورے کا پس منظر اور پاکستان کا کردار
پاکستان کے ایران اور امریکہ دونوں کے ساتھ دیرینہ تعلقات ہیں۔ خطے میں حالیہ کشیدگی اور تبدیل ہوتی ہوئی جیو پولیٹیکل صورتحال کے پیش نظر، یہ دورہ انتہائی اہمیت کا حامل قرار دیا جا رہا ہے۔ سوئٹزرلینڈ تاریخی طور پر بین الاقوامی تنازعات میں ایک غیر جانبدار ثالث کا کردار ادا کرتا رہا ہے اور امریکہ اور ایران کے درمیان سفارتی پیغامات کے تبادلے کے لیے بھی سوئس چینل ہی استعمال ہوتا ہے
ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف سوئٹزرلینڈ میں اہم عالمی رہنماؤں اور سفارت کاروں سے ملاقاتیں کریں گے جہاں ایران امریکہ معاملات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا جائے گا
ثالثی کا کردار: پاکستان خطے میں امن و امان کے قیام اور دو بڑے ممالک کے درمیان فاصلے مٹانے کے لیے پل کا کردار ادا کرنے کی کوشش کر رہا ہے
سوئٹزرلینڈ کا انتخاب کیوں چونکہ جنیوا اور برن بین الاقوامی سفارت کاری کے مرکز ہیں، اس لیے اس اہم ترین معاملے کے لیے اس جگہ کا انتخاب کیا گیا ہے
اقتصادی اور علاقائی اثرات اگر یہ معاہدہ یا مفاہمت کامیاب ہو جاتی ہے تو اس کے اثرات نہ صرف پاک ایران گیس پائپ لائن بلکہ پورے خطے کی معیشت اور امن پر مثبت انداز میں مرتب ہوں گے

No comments:
Post a Comment