سابق وزیراعظم عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی بیٹی مبشرہ خاور مانیکا نے اپنی والدہ کو اڈیالا جیل میں مبینہ طور پر قیدِ تنہائی میں رکھنے کے اقدام کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کر دیا ہے
اس درخواست کے ذریعے انہوں نے عدالتِ عالیہ سے استدعا کی ہے کہ بشریٰ بی بی کو بنیادی انسانی حقوق فراہم کیے جائیں اور جیل مینوئل کے مطابق ان کے ساتھ سلوک کیا جائے
درخواست کا متن اور بنیادی مطالبات
مبشرہ خاور مانیکا کی جانب سے دائر کردہ آئینی درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ بشریٰ بی بی کو جیل میں دیگر قیدیوں سے الگ تھلگ رکھ کر ذہنی اور نفسیاتی دباؤ کا شکار کیا جا رہا ہے درخواست میں درج ذیل اہم مطالبات کیے گئے ہیں
قیدِ تنہائی کا خاتمہ بشریٰ بی بی کو فوری طور پر قیدِ تنہائی سے نکال کر عام یا بہتر کلاس کی سہولیات فراہم کی جائیں
طبی معائنہ: ان کی بگڑتی ہوئی صحت کے پیشِ نظر، انہیں ان کے ذاتی معالج یا کسی آزاد میڈیکل بورڈ سے طبی معائنے کی اجازت دی جائے
ملاقاتوں کی اجازت خاندان کے افراد اور وکلاء کو بغیر کسی رکاوٹ کے جیل مینوئل کے تحت شیڈول کے مطابق ملاقات کا حق دیا جائے
بشریٰ بی بی ایک سیاسی قیدی ہیں اور انہیں بنیادی آئینی حقوق سے محروم رکھنا قانون اور انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہے — درخواست کا ایک اہم اقتبار
پسِ منظر اور سیاسی منظرنامہ
بشریٰ بی بی کو مختلف مقدمات میں سزا کے بعد اڈیالا جیل اور اس سے قبل بنی گالا سب جیل میں رکھا گیا ہے۔ پاکستان تحریکِ انصاف PTI اور بشریٰ بی بی کے اہلخانہ مسلسل یہ الزامات عائد کرتے رہے ہیں کہ جیل انتظامیہ کی جانب سے ان کے ساتھ ناروا سلوک روا رکھا جا رہا ہے اور انہیں بنیادی سہولیات سے بھی محروم کیا گیا ہے
قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس درخواست پر اسلام آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ نہ صرف بشریٰ بی بی کے لیے اہم ہوگا، بلکہ یہ جیلوں میں سیاسی قیدیوں کے حقوق کے حوالے سے بھی ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتا ہے

No comments:
Post a Comment