چینی ای کامرس اور ٹیکنالوجی کی دنیا کی سب سے بڑی کمپنی Alibaba نے امریکی محکمۂ دفاع Pentagon کے خلاف عدالت میں مقدمہ دائر کر دیا ہے یہ قانونی کارروائی اس وقت سامنے آئی جب پینٹاگون نے علی بابا کو چینی فوجی کمپنی کے طور پر بلیک لسٹ کرنے کی فہرست میں شامل کیا
علی بابا کا مؤقف اور دفاع
کمپنی نے امریکی عدالت میں دائر کی گئی درخواست میں پینٹاگون کے اس فیصلے کو مکمل طور پر مسترد کر دیا ہے علی بابا کا کہنا ہے کہ
ان کا چینی فوج یا کسی بھی قسم کی عسکری وابستگی سے کوئی تعلق نہیں ہے
کمپنی خالصتاً تجارتی اور سولر مقاصد کے لیے کام کرتی ہے اور اس کے تمام نیٹ ورکں عوامی اور کاروباری ہیں
امریکی حکومت کا یہ فیصلہ غیر منصفانہ اور حقائق کے برعکس ہے جس سے کمپنی کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے
مقدمے کے ممکنہ اثرات
امریکی محکمۂ دفاع کی جانب سے کسی کمپنی کو چینی عسکری کمپنی قرار دینے کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ امریکی سرمایہ کاروں، کمپنیوں اور اداروں کو اس کے ساتھ کاروبار کرنے یا اس کے شیئرز خریدنے پر سخت پابندیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے علی بابا کی کوشش ہے کہ قانونی جنگ کے ذریعے اس داغ کو دھویا جائے تاکہ اس کی عالمی مارکیٹ خصوصاً امریکہ میں سرمایہ کاری اور ساکھ متاثر نہ ہو
ٹیکنالوجی اور عالمی سیاست کے ماہرین اس مقدمے کو امریکہ اور چین کے درمیان جاری ٹیک وار Tech War کا ایک اور اہم موڑ قرار دے رہے ہیں

No comments:
Post a Comment