ویب ڈیسک۔روز نیوز ترکیہ کے سابق وزیراعظم اور امتِ مسلمہ کے عظیم رہنما نجم الدین اربکان کا سالوں پرانا ایک تاریخی بیان ان دنوں سوشل میڈیا اور عوامی حلقوں میں ایک بار پھر شدید بحث کا مرکز بنا ہوا ہے اپنے اس بیان میں انہوں نے مسلم امہ کی موجودہ حالتِ زار اور فلسطین کے معاملے پر ان کی بے حسی پر گہرا دکھ کا اظہار کیا تھا
سستی اور بے حسی پر کڑی تنقید
سابق ترک وزیراعظم نجم الدین اربکان نے مسلم دنیا کو جھنجھوڑتے ہوئے کہا تھا
اگر 2 ارب مسلمان 70 لاکھ والے اسرائیل کے لیے ابابیل کا انتظار کر رہے ہیں تو یاد رکھیں اگر ابابیل پرندے آ گئے تو وہ اسرائیل کو سنگسار نہیں کریں گے، بلکہ ہم مسلمانوں کو سنگسار کریں گے
ان کا یہ بیان اس سوچ پر کاری ضرب ہے جہاں مسلمان خود عملی جدوجہد کرنے کے بجائے صرف معجزات کے سہارے بیٹھے ہوئے ہیں اور غزہ و فلسطین کے مظلوموں کے لیے کوئی ٹھوس قدم نہیں اٹھا رہے
سوشل میڈیا پر نئی بحث کا آغاز
موجودہ عالمی حالات اور مشرقِ وسطیٰ کی سنگین صورتحال کے تناظر میں یہ بیان ایک بار پھر انٹرنیٹ پر تیزی سے شیئر کیا جا رہا ہے۔ صارفین کا کہنا ہے کہ نجم الدین اربکان کا یہ قول آج کے دور میں مسلمانوں کی حالت پر بالکل سچ ثابت ہو رہا ہے
عوامی ردِعمل: سوشل میڈیا صارفین کے مطابق 2 ارب کی آبادی اور بے پناہ وسائل ہونے کے باوجود مسلم ممالک کا اسرائیل کے سامنے بے بس نظر آنا امتِ مسلمہ کے زوال کی واضح نشانی ہے
سیاسی تجزیہ کار: مبصرین کا ماننا ہے کہ جب تک مسلم دنیا معاشی، تعلیمی اور دفاعی طور پر خود کفیل نہیں ہوتی اور آپس کے اختلافات ختم نہیں کرتی تب تک حالات تبدیل ہونا ممکن نہیں
نجم الدین اربکان کون تھے
نجم الدین اربکان ترکیہ کے پہلے اسلامی نظریات کے حامل وزیراعظم تھے، جنہوں نے ہمیشہ مسلم ممالک کے اتحاد جیسے D-8 ممالک کی تنظیہ اور امتِ مسلمہ کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے کی وکالت کی وہ اسرائیل کی جارحانہ پالیسیوں کے سخت ترین مخالف سمجھے جاتے تھے اور انہوں نے ہمیشہ مسلمانوں کو غیر ملکی امداد یا معجزات کے بھروسے بیٹھنے کے بجائے خود کو طاقتور بنانے کا درس دیا
یہ بیان آج کے مسلمانوں کے لیے ایک بڑا سوالیہ نشان ہے کہ کیا ہم صرف الفاظ کی حد تک مظلوموں کے ساتھ ہیں یا عملی طور پر بھی کچھ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں

No comments:
Post a Comment