Followers

Saturday, 30 May 2026

تائیوان اور امریکہ کے درمیان مجوزہ صدارتی رابطہ خطرے میں: ٹرمپ کا یوٹرن

 


واشنگٹن: بین الاقوامی سیاسی منظر نامے سے ایک بڑی خبر سامنے آئی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اب تائیوان کے صدر لائی چنگ تے Lai Ching-te سے اس اہم اور مجوزہ کال پر بات چیت نہیں کریں گے، جس کا انہوں نے پہلے اعلان کیا تھا  یہ رابطہ تائیوان کو امریکی اسلحے کی فروخت کے اربوں ڈالر کے پیکیج سے قبل ہونا تھا

امریکی میڈیا آؤٹ لیٹ سی بی ایس CBS نیوز کے مطابک، صدر ٹرمپ نے پہلے اس عزم کا اظہار کیا تھا کہ وہ تائیوان کو ہتھیاروں کی فراہمی کے بڑے فیصلے پر دستخط کرنے سے قبل تائیوانی ہم منصب سے براہِ راست گفتگو کریں گے، تاہم اب ذرائع کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کی جانب سے اس بات چیت کی توقع نہیں ہے

یہ کال اتنی اہم کیوں تھی

اگر یہ صدارتی رابطہ ممکن ہو جاتا تو یہ عالمی سیاست، بالخصوص امریکہ اور چین کے تعلقات میں ایک بہت بڑا دھماکہ ہوتا

45 سالہ سفارتی تعطل۔ سال 1979 کے بعد سے اب تک کسی بھی برسرِاقتدار امریکی صدر نے تائیوان کے کسی رہنما سے براہِ راست بات چیت نہیں کی ہے

چین کا ردِعمل: امریکہ باضابطہ طور پر ون چائنا پالیسی" One China Policy کے تحت بیجنگ کو تسلیم کرتا ہے۔ تائیوانی صدر سے امریکی صدر کا براہِ راست رابطہ چین کے غیظ و غضب کو دعوت دینے کے مترادف مانا جاتا ہے

اسلحہ پیکیج کا معاملہ اب کہاں کھڑا ہے

رپورٹس کے مطابق، صدر ٹرمپ نے تائیوان کے صدر سے بات چیت کا ارادہ ترک تو کر دیا ہے، لیکن اسلحے کی فروخت کا معاملہ ابھی بھی زیرِ غور ہے۔ تائیوان طویل عرصے سے چین کے بڑھتے ہوئے فوجی دباؤ کے خلاف اپنی دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط کرنے کے لیے امریکی جدید ترین ہتھیاروں کا منتظر ہے

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کا یہ فیصلہ چین کے ساتھ تجارتی اور سفارتی تعلقات میں مزید تناؤ سے بچنے کی ایک حکمتِ عملی بھی ہو سکتا ہے تاہم تائیوان کو ہتھیاروں کی فروخت کا حتمی فیصلہ آنے والے دنوں میں واشنگٹن اور بیجنگ کے تعلقات کا رخ طے کرے گا

No comments:

Post a Comment

ٹرمپ انتظامیہ کا بڑا یوٹرن: پاکستان کا میزائل پروگرام امریکہ کے لیے خطرہ نہیں، امریکی وزیرِ دفاع نے نیشنل انٹیلی جنس کی رپورٹ مسترد کر دی

  واشنگٹن..اسلام آباد, امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے پاکستان کے میزائل پروگرام سے متعلق امریکی نیشنل انٹیلی جنس کے حالیہ جائزے سے یکس...