افغانستان کی طالبان حکومت کے قائم مقام وزیر دفاع ملا محمد یعقوب نے ایک انتہائی اہم اور تہلکہ خیز بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ افغانستان نے روس کے ساتھ جدید فضائی دفاعی نظام Air Defense System کے حصول کا معاہدہ کر لیا ہے۔ انہوں نے واضح الفاظ میں کہا ہے کہ اس اقدام کے بعد پڑوسی ملک پاکستان دوبارہ افغان سرزمین پر فضائی حملہ کرنے کی جرات نہیں کرے گا
ایک حالیہ انٹرویو یا تقریب کے دوران گفتگو کرتے ہوئے ملا یعقوب کا کہنا تھا
"چند ماہ قبل وہ پاکستان افغانستان کے ہر حصے میں بمباری کرنے کی جرات رکھتے تھے۔ ہم اس بات کو یقینی بنانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ وہ مستقبل قریب میں دوبارہ ایسا کرنے کی جرات نہ کریں
پاک افغان کشیدگی اور فضائی حملے
یاد رہے کہ گزشتہ مہینوں میں پاکستان اور افغانستان کے مابین سرحدی کشیدگی میں شدید اضافہ دیکھا گیا تھا۔ پاکستان کی جانب سے افغان حدود کے اندر مبینہ طور پر کالعدم تحریک طالبان پاکستان TTP کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کے لیے فضائی کارروائیاں کی گئی تھیں، جس پر طالبان حکومت نے شدید احتجاج کیا تھا اور اسے اپنی خودمختاری پر حملہ قرار دیا تھا۔ افغانستان کے پاس جدید فضائی دفاعی نظام نہ ہونا طویل عرصے سے اس کی فضائی حدود کو کمزور بنائے ہوئے تھا
روس کے ساتھ معاہدہ اور علاقائی سیاست
ملا یعقوب کے اس بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ طالبان حکومت اب اپنی فضائی حدود کو محفوظ بنانے کے لیے روس جیسی بڑی طاقتوں کے ساتھ سیکیورٹی تعاون بڑھا رہی ہے۔ اگر روس کی جانب سے افغانستان کو فضائی دفاعی نظام فراہم کیا جاتا ہے، تو یہ خطے کی جیو پولیٹکس Geo-politics میں ایک بڑی تبدیلی کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے
ماہرین کا ماننا ہے کہ اس معاہدے کے بعد پاک افغان تعلقات میں مزید سرد مہرئی اور دفاعی توازن میں تبدیلی آ سکتی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ ملا یعقوب کے اس چونکا دینے والے دعوے پر پاکستان کے سیکیورٹی اداروں اور دفتر خارجہ کا کیا ردعمل سامنے آتا ہے

No comments:
Post a Comment