تحریر: جاوید چوہدری بلاگ ایڈیشن
پاکستانی سیاست اور بین الاقوامی تعلقات میں جب بھی کوئی بڑی تبدیلی آنے والی ہوتی ہے تو پسِ پردہ کچھ ایسی سرگرمیاں شروع ہو جاتی ہیں جنہیں عام آنکھ آسانی سے نہیں دیکھ پاتی آج کل اسلام آباد اور واشنگٹن کے ایوانوں سے ایک عجیب سی خوشبو آ رہی ہے امریکہ بہادر پاکستان کی تعریفیں کر رہا ہے
جی ہاں۔ وہی امریکہ جو کبھی ڈو مور کا راگ الاپتا تھا آج پاکستان کے کردار اس کی حکمتِ عملی اور اس کی قربانیوں کا معترف نظر آ رہا ہے لیکن کیا یہ تعریف اتنی ہی معصومانہ ہے جتنی دکھائی دے رہی ہے تاریخ اور تجربہ تو کچھ اور ہی کہانی سناتے ہیں
قربانی کے بکرے کا پروتوکول
امریکہ کی اس اچانک محبت کو سمجھنے کے لیے آپ کو کسی راکٹ سائنس کی ضرورت نہیں، بس ہمارے روایتی معاشرے میں عیدِ قربان کے مناظر یاد کر لیں
جب کسی بکرے کو ذبح کرنا مقصود ہو، تو اس کے ساتھ کیا سلوک کیا جاتا ہے
پہلے اسے بڑے لاڈ پیار سے نہلایا جاتا ہے
اس کی آنکھوں میں سرمہ لگایا جاتا ہے
اس کے کھروں اور ماتھے پر مہندی رچائی جاتی ہے
گلے میں نوٹوں اور پھولوں کے ہار پہنائے جاتے ہیں اور اسے محلے بھر میں گھمایا جاتا ہے تاکہ دنیا دیکھے کہ یہ کتنا خاص ہے
لیکن یاد رکھیے یہ سارا لاڈ پیار یہ سارا بناؤ سنگھار بکرے کی عزت افزائی کے لیے نہیں ہوتا۔ یہ اس کے آخری سفر کی تیاری ہوتی ہے جیسے ہی وقتِ مقررہ آتا ہے، اسی چمکتے دمکتے بکرے کو زمین پر لٹا کر چھری پھیر دی جاتی ہے اور پھر سب مل کر گوشت کا لطف اٹھاتے ہیں
تاریخ کی گواہی: امریکہ کا پرانا طریقہ واردات
اگر ہم ماضی کے پنّے پلٹ کر دیکھیں تو امریکہ جب بھی کسی ملک کو اپنے مفادات کی بھٹی میں جھونکنے لگتا ہے تو پہلے اسے دنیا کا عظیم ترین اتحادی قرار دیتا ہے امداد کے پیکجز، توصیفی کلمات اور وائٹ ہاؤس کے دورے اسی مہندی اور سرمے کا حصہ ہوتے ہیں اور جب مقصد پورا ہو جائے تو پھر وہی ملک تنہا تباہ حال اور بحرانوں کا شکار چھوڑ دیا جاتا ہے
پاکستان اس کھیل سے انجان نہیں ہے ہم نے دہائیوں تک اس بناؤ سنگھار کی قیمت چکائی ہے
اب آگے کیا ہوگا
امریکہ کی حالیہ تعریفیں اس بات کا واضح اشارہ ہیں کہ خطے میں کوئی نیا محاذ کھلنے والا ہے یا کوئی ایسا بڑا ٹاسک ہے جو واشنگٹن پاکستان کے بغیر پورا نہیں کر سکتا۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ
کیا ہمارے حکمران اس بار بھی اس سرمے اور مہندی کے دھوکے میں آ جائیں گے؟
یا پھر تاریخ سے سبق سیکھتے ہوئے اس بار قربانی کا بکرا بننے سے انکار کر دیں گے
وقت آ گیا ہے کہ ہم امریکہ کے اس لاڈ پیار پر خوش ہونے کے بجائے اپنے چاقو چھریاں تیز رکھیں، کیونکہ بین الاقوامی سیاست میں کوئی کسی کا دوست نہیں ہوتا، یہاں صرف اور صرف مفادات کی قربانی دی جاتی ہے

No comments:
Post a Comment