اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف (PTI) کی اعلیٰ قیادت اور پارلیمانی کمیٹی کا ایک انتہائی اہم او ہنگامی اجلاس اسلام آباد میں منعقد ہوا جس میں پارٹی کے داخلی نظم و ضبط اور اہم سیاسی حکمت عملی پر تفصیلی غور و خوض کیا گی یہ اہم اجلاس قومی اسمبلی کے بجٹ اجلاس کے فوراً بعد طلب کیا گیا تھا جس میں پارٹی کے تمام اہم رہنماؤں اور اراکینِ پارلیمنٹ نے شرکت کی
بیر سٹر گوہر علی خان کی زیرِ صدارت اجلاس
تحریک انصاف کے اس اہم مشاورتی اور فیصلہ کن اجلاس کی صدارت پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے کی۔ اجلاس کے دوران قومی اسمبلی کے بجٹ سیشن میں پارٹی کی کارکردگی، پارلیمانی امور اور مستقبل کے سیاسی لائحہ عمل کا تفصیلی جائزہ لیا گیا بیرسٹر گوہر نے اراکین کو پارلیمنٹ کے اندر بھرپور اور متحد انداز میں آواز اٹھانے کی ہدایت کی اور واضح کیا کہ ملک کے موجودہ سیاسی و اقتصادی حالات میں اپوزیشن کا کردار انتہائی اہمیت کا حامل ہے
اقبال آفریدی کو پارلیمانی پارٹی سے نکالنے کا بڑا فیصلہ
اجلاس کے بعد پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے ایک باضابطہ اعلامیہ جاری کیا گیا جس میں ایک بڑا اور سخت تنظیمی فیصلہ سامنے آیا ہے اعلامیے کے مطابق، تحریک انصاف نے اپنے رکنِ قومی اسمبلی اقبال آفریدی کو پارلیمانی پارٹی سے خارج کر دیا ہے۔ پارٹی ذرائع کے مطابق یہ سخت اقدام پارٹی ڈسپلن نظم و ضبط کی خلاف ورزی اور پارلیمانی امور میں پارٹی کی طے شدہ پالیسیوں سے انحراف کرنے پر اٹھایا گیا ہیں
اعلامیے میں واضح کیا گیا ہے کہ تحریک انصاف کے اندر کسی بھی سطح پر نظم و ضبط کی خلاف ورزی کو برداشت نہیں کیا جائے گا، اور جو بھی رکن پارٹی گائیڈلائنز سے ہٹ کر چلے گا، اس کے خلاف سخت تادیبی کارروائی عمل میں لائی جائے گہی
پارلیمانی امور اور پارٹی ڈسپلن کا جائزہ
اجلاس کے دوران بجٹ سیشن میں پارٹی اراکین کے رویوں اور حاضری کا بھی باریک بینی سے جائزہ لیا گیا چیئرمین بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ پارٹی کو اس وقت بیرونی چیلنجز کے ساتھ ساتھ اندرونی اتحاد کی بھی اشد ضرورت ہے۔ تمام اراکینِ اسمبلی پابند ہیں کہ وہ قومی اسمبلی اور سینیٹ کے اندر پارٹی کی مرکزی قیادت کے فیصلوں کی مکمل پاسداری کریں۔ اجلاس میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ پارٹی کو مزید فعال اور منظم بنانے کے لیے ڈسپلن کمیٹی کو مزید متحرک کیا جائے گا تاکہ مستقبل میں اس قسم کے واقعات کا سدِباب ہو سک

No comments:
Post a Comment