سرگودھا کے علاقے کارخانہ بازار بلاک 8 میں تین روز قبل پیش انے والے انتہائی افسوسناک اور دلخراش واقعے میں قتل ہونے والی 7 سالہ معصوم بچی منتہا زہرہ کی پوسٹ مارٹم رپورٹ سامنے ا گئی ہے پوسٹ مارٹم رپورٹ میں معصوم بچی کے ساتھ زیادتی اور اس پر کیے جانے والے وحشیانہ تشدد کے ہولناک انکشافات ہوئے ہیں، جس نے پورے علاقے کو ہلا کر رکھ دیا ہے
ریاست پی کے کی حاصل کردہ پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق، 7 سالہ منتہا زہرہ کے ساتھ قتل سے قبل زیادتی کی تصدیق ہوئی ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ معصوم بچی کی موت شہ رگ کٹ جانے کی وجہ سے واقع ہوئی۔ درندوں نے نہ صرف بچی کو اپنی ہوس کا نشانہ بنایا بلکہ اس پر بے پناہ وحشیانہ تشدد بھی کیا
جسم پر تشدد کے نشانات اور ہڈیاں ٹوٹنے کا انکشاف
پوسٹ مارٹم رپورٹ کے چونکا دینے والے انکشافات کے مطابق، مقتولہ منتہا زہرہ کے چہرے سمیت جسم کے مختلف حصوں پر شدید تشدد کے 7 واضح نشانات پائے گئے ہیں وحشی ملزمان کے تشدد کے باعث معصوم بچی کے چہرے کی ہڈی اور ماتھے کی ہڈی بھی ٹوٹی ہوئی پائی گئی، جبکہ سر کے دائیں جانب بھی گہرے زخم موجود تھے، جو ملزمان کی سفاکیت کا منہ بولتا ثبوت ہیں
یاد رہے کہ تین روز قبل کارخانہ بازار بلاک 8 میں اس 7 سالہ معصوم بچی کو اغوا کے بعد زیادتی کا نشانہ بنایا گیا تھا اور بعد میں چھری سے گلا کاٹ کر بے دردی سے موت کے گھاٹ اتار دیا گیا تھا
ڈی این اے نمونے لاہور لیبارٹری ارسال
ذرائع پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کے بعد پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے شک کی بنیاد پر چند ملزمان کو گرفتار کیا ہے گرفتار کیے گئے ملزمان کے ڈی این اے DNA ٹیسٹ اور میچنگ کے لیے نمونے حاصل کر کے لاہور کی فارنزک لیبارٹری بھجوا دیے گئے ہیں اور پولیس کو اب اس اہم ترین رپورٹ کا انتظار ہے تاکہ کیس کو سائنسی شواہد کے ساتھ آگے بڑھایا جا سکے
مرکزی ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک
دوسری جانب پولیس ذرائع سے موصول ہونے والی تازہ ترین معلومات کے مطابق، اس لرزہ خیز مقدمے کا مرکزی ملزم جس کی شناخت ارسلان کے نام سے ہوئی ہے، کرائم انویسٹی گیشن ڈیپارٹمنٹ CIA/CCD کے ساتھ ہونے والے ایک مبینہ مقابلے میں ہلاک ہو چکا ہے پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم کو گرفتار کرنے کی کوشش کے دوران یہ تبادلہ ہوا جس میں وہ انجام کو پہنچا
اس واقعے کے بعد سرگودھا کے عوامی اور سماجی حلقوں میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے شہریوں اور تاجر برادری نے معصوم منتہا زہرہ کے لواحقین سے گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ کیس کے دیگر سہولت کاروں اور ملوث افراد کو بھی عبرت ناک سزا دی جائے تاکہ مستقبل میں کوئی ایسی گھناؤنی حرکت کرنے کی جرات نہ کر سکے

No comments:
Post a Comment