لاہور، روز نیوز 8: بین الاقوامی سیاست اور مشرقِ وسطیٰ سے اس وقت کی سب سے بڑی اور سنسنی خیز خبر سامنے آ رہی ہے۔ عرب میڈیا رپورٹس کے مطابق اقوام متحدہ UN نے غزہ میں معصوم فلسطینیوں کے خلاف جاری جارحیت اور مبینہ نسل کشی Genocide کے الزامات پر سخت ترین اقدام اٹھاتے ہوئے اسرائیل کو بلیک لسٹ میں شامل کر دیا ہے
عرب ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ غزہ میں انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں، ہسپتالوں، اسکولوں اور پناہ گزین کیمپوں پر مسلسل بمباری کے ردعمل میں سامنے آیا ہے، جس کے بعد عالمی سطح پر اسرائیل پر دباؤ مزید بڑھ گیا ہے۔
بچوں اور شہریوں کو نشانہ بنانے والے ممالک کی فہرست
رپورٹس کے مطابق اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کی جانب سے مرتب کی جانے والی اس خصوصی بلیک لسٹ میں ان ممالک اور تنظیموں کو شامل کیا جاتا ہے جو مسلح تنازعات کے دوران بچوں اور عام شہریوں کو دانستہ طور پر نشانہ بناتے ہیں۔ عالمی برادری اور انسانی حقوق کی تنظیمیں طویل عرصے سے اقوام متحدہ پر زور دے رہی تھیں کہ غزہ میں اسرائیلی فوج کے ہاتھوں ہزاروں بچوں کی شہادت پر اسرائیل کو اس فہرست کا حصہ بنایا جائے
عالمی برادری کا ردعمل اور سفارتی اثرات
عرب میڈیا کے مطابق اس فیصلے کے بعد اسرائیل کو شدید سفارتی تنہائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے
عرب اور اسلامی ممالک کا مؤقف: سعودی عرب، پاکستان، ترکیہ اور دیگر اسلامی ممالک نے اس ممکنہ فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے انصاف کی جیت قرار دیا ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ صرف بلیک لسٹنگ کافی نہیں، بلکہ اسرائیلی قیادت پر عالمی عدالت میں جنگی جرائم کے مقدمات چلائے جائیں
اسرائیل کا ردعمل: دوسری جانب، اسرائیلی قیادت نے ہمیشہ کی طرح اقوام متحدہ کے اس اقدام پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے اسے جانبدارانہ اور یہود مخالف قرار دے کر مسترد کرنے کی کوشش کی ہے
غزہ کی موجودہ صورتحال پر ایک نظر
واضح رہے کہ غزہ میں جاری اسرائیلی جارحیت کے نتیجے میں اب تک ہزاروں معصوم فلسطینی شہید اور زخمی ہو چکے ہیں جن میں نصف سے زائد تعداد خواتین اور بچوں کی ہے۔ پورا غزہ اس وقت ملبے کا ڈھیر بن چکا ہے اور وہاں خوراک پانی اور ادویات کی شدید قلت ہے
محلین کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ کی جانب سے اٹھایا جانے والا یہ قدم علامتی طور پر بھی اسرائیل کے لیے ایک بہت بڑا سفارتی دھچکا ہے جس سے دنیا بھر میں اس کے بیانیے کو شکست ہوئی ہے

No comments:
Post a Comment