پاکستان میں قانون کی لاٹھی ہمیشہ غریب پر ہی کیوں برستی ہے یہ وہ سوال ہے جو ہر پاکستانی کے ذہن میں اس وقت گردش کر رہا ہے جب سے سندھ کے صوبائی وزیر داخلہ کا حالیہ بیان سامنے آیا ہے۔ ایک ہائی پروفائل کیس، جس میں کوکین منشیات کے استعمال کا تذکرہ ہے اس پر گفتگو کرتے ہوئے وزیر داخلہ سندھ کا کہنا ہے کہ کوکین استعمال کرنے والوں کا نام پردے میں رہنا چاہیے یہ بیان سنتے ہی عام شہری کا سر چکرا جاتا ہے اور وہ یہ سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ کیا اس ملک میں جرائم کی سنگینی کا اندازہ ملزم کی جیب اور اس کے سماجی رتبے کو دیکھ کر لگایا جاتا ہے
غریب کے لیے قانون کا چہرہ تذلیل اور ویڈیوز
اگر خدانخواستہ یہی جرم کسی کچی بستی کے رہائشی کسی غریب کے بچے یا عام شہری سے سرزد ہوا ہوتا تو منظرنامہ بالکل مختلف ہوتا
پولیس فوری طور پر ملزم کو سڑکوں پر گھسیٹتی
اس کے چہرے پر کپڑا ڈال کر یا بغیر منہ چھپائے پریس کانفرنسز کی جاتیں
سوشل میڈیا اور میڈیا چینلز پر اس کی ویڈیوز وائرل کر کے اسے اور اس کے پورے خاندان کو معاشرے میں جینے کے لائق نہ چھوڑا جاتا
قانون کی بالادستی کا ڈھنڈورا پیٹنے کے لیے غریب کو عبرت کا نشان بنا دیا جاتا
امیر کے لیے قانون کا چہرہ نام پردے میں رہنا چاہی
لیکن جب بات اشرافیہ Elite Class بااثر شخصیات یا ان کے بچوں پر آتی ہے، تو قانون یکدم رحم دل اور شریف بن جاتا ہے
منشیات جیسے سنگین جرم، جو معاشرے کی جڑیں کھوکھلی کر رہا ہے، اس کے مرتکب افراد کو سزا دینے اور ان کا پردہ چاک کرنے کے بجائے حکومتی وزراء خود ان کے نام چھپانے کی وکالت کرتے نظر آتے ہیں ایسا لگتا ہے جیسے اشرافیہ کے گناہوں پر پردہ ڈالنا اور انہیں فوری تحفظ فراہم کرنا پولیس اور انتظامیہ کی اولین ذمہ داری بن چکا ہو
دوہرا نظامِ انصاف: معاشرتی تباہی کا پیش خیمہ
یہ رویہ واضح کرتا ہے کہ ہمارے ملک میں دو الگ الگ پاکستان چل رہے ہیں
ایک پاکستان غریب کے لیے: جہاں چوری کے شک میں بھی انسان کو جان سے مار دیا جاتا ہے یا عمر بھر کی ذلت کا طوق گلے میں ڈال دیا جاتا ہے
دوسرا پاکستان اشرافیہ کے لیے: جہاں کوکین جیسے ممنوعہ اور خطرناک نشے کے استعمال پر بھی پردہ داری اور عزتِ نفس کے تحفظ کے مشورے دیے جاتے ہیں
حاصل کلام
کسی بھی مہذب معاشرے کی بقا انصاف کے یکساں نظام پر ہوتی ہے جب تک یہاں جرم کو ملزم کے رتبے سے تولا جاتا رہے گا تب تک قانون کا وقار بحال نہیں ہو سکتا اگر کوکین کا استعمال جرم ہے، تو پھر مجرم کوئی بھی ہو اس کا نام اور چہرہ عوام کے سامنے آنا چاہیے نہ کہ اسے اشرافیہ ہونے کا وی آئی پی ڈسکاؤنٹ ملے
آپ کی رائے کیا ہے کیا آپ کو لگتا ہے کہ اس ملک میں کبھی امیر اور غریب کے لیے ایک جیسا قانون نافذ ہو سکے گا اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے کمنٹ سیکشن میں ضرور کریں

No comments:
Post a Comment