بین الاقوامی سیاست اور مشرقِ وسطیٰ کے تناظر میں ایک بہت بڑی اور اہم پیشرفت سامنے آئی ہے۔ امریکہ اور ایران نے اصولی طور پر ایک ابتدائی فریم ورک معاہدے پر اتفاق کر لیا ہے، جس کے تحت خطے میں کشیدگی کو کم کرنے کے لیے اہم اقدامات اٹھائے جائیں گے نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق، اس معاہدے کا بنیادی مقصد خلیج ہرمز کے تجارتی راستے کو دوبارہ بحال کرنا اور جوہری پھیلاؤ کو روکنا ہے
معاہدے کے اہم نکات اور شرائط
اس ابتدائی فریم ورک کے تحت دونوں ممالک نے درج ذیل اہم امور پر رضامندی ظاہر کی ہے
خلیج ہرمز کی بحالی: ایران خلیج ہرمز سے تمام بارودی سرنگیں صاف کرے گا اور بین الاقوامی تجارتی جہازوں کو محفوظ اور آزادانہ گزرنے کی مکمل اجازت دے گا
بحری ناکہ بندی کا خاتمہ اس کے جواب میں امریکہ ایران کی بندرگاہوں پر قائم بحری ناکہ بندی کو ختم کر دے گا
یورینیم کے ذخائر کا خاتمہ معاہدے کی رو سے ایران اپنے 60% تک افزودہ شدہ یورینیم کے موجودہ ذخیرے کو مکمل طور پر ختم کرنے کا پابند ہوگا
تیل کی فروخت کی اجازت ناکہ بندی اور پابندیوں میں نرمی کے بعد ایران کو عالمی مارکیٹ میں اپنے تیل کی فروخت دوبارہ شروع کرنے کی اجازت مل جائے گی
جنگ بندی میں توسیع اس پورے پیکیج میں 60 دن کی جنگ بندی کی توسیع بھی شامل ہے، جبکہ دیگر وسیع تر اور پیچیدہ جوہری مسائل کو بعد میں ہونے والے مذاکرات کے لیے مؤخر کر دیا گیا ہے

No comments:
Post a Comment