اسلام آباد ۔مانیٹرنگ ڈیسک، روز نیوز 8۔ پاکستان کی وفاقی حکومت نے پچھلے دو سالوں کے دوران پیٹرولیم لیوی کی مد میں شہریوں سے تاریخی اور ریکارڈ رقم وصول کر لی ہے۔ سرکاری دستاویزات کے مطابق یہ وصولی عالمی مالیاتی فنڈ آئی ایم ایف کے جاری دونوں قرض پروگراموں کی مجموعی مالیت سے بھی زیادہ ہے
آئی ایم ایف قرضے سے بڑی وصولی
دستیاب سرکاری اعدادوشمار کے مطابق وفاقی حکومت نے اپریل 2024 سے لے کر مارچ 2026 تک کے دو سالہ عرصے میں عوام کی جیبوں سے پیٹرولیم لیوی کی مد میں 2 ہزار 725 ارب روپے نکالے ہیں۔ موازنہ کیا جائے تو آئی ایم ایف کے جاری دونوں قرض پروگراموں کی مجموعی رقم موجودہ ایکسچینج ریٹ کے حساب سے پاکستانی کرنسی میں تقریباً 2 ہزار 340 ارب روپے بنتی ہے۔ یعنی حکومت نے قرض سے کہیں زیادہ رقم لیوی کی صورت میں عوام سے اکٹھی کی۔
رواں مالی سال اور گزشتہ سال کے اعدادوشمار:
آفیشل دستاویزات کے مطابق معاشی سال کے مختلف حصوں میں لیوی کی وصولی کچھ اس طرح رہ جولائی 2025 سے مارچ 2026 رواں مالی سال کے 9 ماہ: اس عرصے کے دوران 1 ہزار 205 ارب روپے سے زائد کی لیوی وصول کی گئی۔
مالی سال 2024-25 گزشتہ سال وفاقی حکومت نے مجموعی طور پر 1 ہزار 220 ارب 21 کروڑ روپے لیوی ٹیکس اکٹھا کیا
اپریل سے جون 2024 سہ ماہی صرف اس تین ماہ کے مختصر عرصے میں وصولی 299 ارب 63 کروڑ روپے ریکارڈ کی گئی تھی
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ پٹرولیم مصنوعات پر عائد اس بھاری ٹیکس کی وجہ سے ملک میں مہنگائی کی شرح میں اضافہ برقرار ہے، جبکہ حکومت اپنے ریونیو کے اہداف پورے کرنے کے لیے براہِ راست ٹیکسوں کے بجائے عوام پر لیوی کا بوجھ بڑھا رہی ہے

No comments:
Post a Comment