Followers

Saturday, 30 May 2026

کیا چین بڑی جنگ کی تیاری کر رہا ہے؟ صحرا میں 80 نئے نیوکلیئر لانچ پیڈز کا سنسنی خیز انکشاف


 دنیا بھر میں اس وقت جیو پولیٹکس کی بساط گرم ہے لیکن اسی دوران ایک ایسی خبر سامنے آئی ہے جس نے عالمی طاقتوں اور بالخصوص پڑوسی ممالک کی راتوں کی نیند اڑا دی ہے۔ بھارتی میڈیا پر سیٹلائٹ سے حاصل ہونے والی خفیہ تصاویر کے حوالے سے ایک سنسنی خیز دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ چین اپنے جوہری میزائل ’سائلوس‘ Silos کے قریب انتہائی تیز رفتاری سے وسیع فوجی ڈھانچے تعمیر کر رہا ہے

ان سیٹلائٹ تصاویر نے دفاعی ماہرین کو حیرت میں ڈال دیا ہے کیونکہ یہ تعمیرات کسی عام فوجی چوکی کی نہیں، بلکہ ایک بڑے نیوکلیئر نیٹ ورک کی عکاسی کرتی ہیں

1. شمال مغربی صحرا میں نیا 'موت کا جال

رپورٹس کے مطابق، چین کے شمال مغربی صحرائی علاقوں میں زمین کے نیچے اور اوپر خاموشی سے ایک بہت بڑا فوجی نیٹ ورک بچھایا جا رہا ہے۔ دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس بنجر اور دور دراز علاقے میں 80 سے زائد نئے لانچ پیڈز اور جدید دفاعی تنصیبات قائم کی جا چکی ہیں یا ان پر کام آخری مراحل میں ہے۔

میزائل سائلوس Silos کیا ہوتے ہیے؟

یہ زمین کے اندر بنائے گئے ایسے محفوظ اور خفیہ زیر زمین کنویں یا بنکرز ہوتے ہیں جن میں بین البراعظمی بیلسٹک میزائل ICBMs رکھے جاتے ہیں، جہاں سے بٹن دباتے ہی سیکنڈوں میں ایٹمی حملہ کیا جا سکتا ہے

2. صرف میزائل نہیں، پورا نظام تیار ہو رہا ہے

بھارتی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق بات صرف میزائل رکھنے کی جگہ تک محدود نہیں ہے سیٹلائٹ تصاویر سے پتہ چلتا ہے کہ ان مقامات پر درج ذیل اہم ترین ڈھانچے تیار کیے جا رہے ہیں

جدید ترین بنکرز: جو کسی بھی جوابی حملے یا بمباری کو برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

مواصلاتی مراکز Communication Centers انتہائی محفوظ اور تیز ترین نیٹ ورک، تاکہ جنگ کی صورت میں سگنل منقطع نہ ہوں اور فوراً کمانڈ دی جا سکے۔

سپورٹ انفراسٹرکچر: فوجیوں کی رہائش، گودام اور ہیوی لوڈر گاڑیوں کے لیے پکے راستے۔

3اس بڑی تبدیلی کا مقصد کیا ہے

دفاعی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ چین اپنی "Nuclear Deterrence ایٹمی دفاعی صلاحیت کو اس حد تک مضبوط کر رہا ہے کہ امریکہ یا کوئی بھی دوسرا ملک اس پر حملہ کرنے کا سوچ بھی نہ سکے 80 سے زائد نئے لانچ پیڈز کا مطلب یہ ہے کہ چین اب ایک وقت میں کئی گنا زیادہ ایٹمی میزائل فائر کرنے کی پوزیشن میں آ رہا ہے

اگرچہ چین ہمیشہ یہ کہتا آیا ہے کہ اس کا ایٹمی پروگرام صرف اپنے دفاع کے لیے ہے اور وہ "No First Use" (پہلے حملہ نہ کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے لیکن اتنے بڑے پیمانے پر نئی تعمیرات نے دنیا بھر کے تھنک ٹینکس کو الرٹ کر دیا ہے

آخری بات: کیا دنیا ایک نئے خطرے کی طرف بڑھ رہی ہے

سرد جنگ کے دور کے بعد یہ پہلی بار ہو رہا ہے کہ کوئی ملک اتنی تیزی سے اپنے نیوکلیئر انفراسٹرکچر کو اپ گریڈ کر رہا ہے۔ بھارتی میڈیا کے یہ دعوے اگر 100 فیصد سچ ہیں، تو آنے والے دنوں میں ایشیا کی سیاست اور سیکیورٹی کی صورتحال مکمل طور پر تبدیل ہونے والی ہے

آپ کی اس بارے میں کیا رائے ہے؟ کیا چین واقعی کسی بڑی جنگ کی تیاری کر رہا ہے یا یہ صرف اپنے دفاع کو مضبوط کرنے کا ایک طریقہ ہے؟ نیچے کمنٹ سیکشن میں اپنی رائے کا اظہار ضرور کریں۔

No comments:

Post a Comment

ٹرمپ انتظامیہ کا بڑا یوٹرن: پاکستان کا میزائل پروگرام امریکہ کے لیے خطرہ نہیں، امریکی وزیرِ دفاع نے نیشنل انٹیلی جنس کی رپورٹ مسترد کر دی

  واشنگٹن..اسلام آباد, امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے پاکستان کے میزائل پروگرام سے متعلق امریکی نیشنل انٹیلی جنس کے حالیہ جائزے سے یکس...