بین الاقوامی سفارتی محاذ پر اس وقت بڑی ہلچل دیکھی جا رہی ہے ایک طرف پاکستان کی ثالثی میں امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کا پہلا سیشن مکمل ہو چکا ہے تو دوسری طرف ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے امریکا کو سخت الفاظ میں خبردار کیا ہے
مذاکرات کا پہلا سیشن اور قطر کا کردار
ذرائع کے مطابق پاکستان کی ثالثی میں ہونے والے امریکا ایران مذاکرات کے پہلے سیشن کے فوری بعد ایک اور اہم بیٹھک جاری ہے اس وقت ایرانی اور قطری وفود کے درمیان اعلیٰ سطحی ملاقات ہو رہی ہے جس میں خطے کی موجودہ صورتحال اور سفارتی امور پر تفصیلی مشاورت کی جا رہی ہے۔ قطر طویل عرصے سے خطے میں ایک اہم سہولت کار کا کردار ادا کرتا رہا ہے اور اس ملاقات کو انتہائی اہمیت کا حامل قرار دیا جا رہا ہے
امریکا بیانات میں احتیاط برتے، ہماری افواج تیار ہیں محمد باقر قالیباف
دوسری جانب، ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے امریکی حکام کے حالیہ بیانات پر سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ تہران میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے واضح کیا
امریکا کو اپنے بیانات سے محتاط رہنا چاہیے۔ ہماری مسلح افواج کسی بھی صورتحال کا مقابلہ کرنے اور بھرپور جواب دینے کے لیے ہر وقت تیار ہیں
امریکی دھمکیاں بے اثر ہیں
قالیباف نے امریکی دباؤ کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ایران ان دھمکیوں سے مرعوب ہونے والا نہیں ہے۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں امریکی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا:
کوئی اہمیت نہیں: ہم امریکی دھمکیوں کو کوئی اہمیت نہیں دیتے
امریکا کی بے بسی اگر امریکی دھمکیاں واقعی کارآمد ہوتیں، تو وہ (امریکا) آج اپنی بے بسی کی اس موجودہ حالت کو نہ پہنچ پاتے
خطے کی صورتحال پر اثرات
مبصرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کی ثالثی میں شروع ہونے والے یہ مذاکرات خطے میں کشیدگی کم کرنے کی ایک بڑی کوشش ہیں تاہم ایران کی قیادت کی طرف سے آنے والے سخت بیانات یہ ظاہر کرتے ہیں کہ ایران کسی بھی قسم کے دباؤ کے تحت جھکنے کو تیار نہیں ہے۔ اب نظریں اس بات پر ہیں کہ قطری وفد کے ساتھ ملاقات اور پاکستان کی سفارتی کوششیں کیا رنگ لاتی ہیں

No comments:
Post a Comment