Sunday, 24 May 2026

کوئٹہ چمن پھاٹک دھماکہ بی ایل اے کی خاتون خودکش بمبار اور بدلتے ہوئے سیکیورٹی چیلنجز

 


کوئٹہ, بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں چمن پھاٹک کے قریب ریل گاڑی کو نشانہ بنانے والے حالیہ خودکش دھماکے نے ایک بار پھر ملک بھر کو ہلا کر رکھ دیا ہے اس حملے کی ذمہ داری کالعدم تنظیم بلوچستان لبریشن آرمی(BLA نے قبول کی ہے، اور سیکیورٹی ذرائع کے مطابق یہ حملہ تنظیم کے "مجید بریگیڈ" سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون خودکش بمبار نے کیا

اس واقعے نے جہاں سیکیورٹی کے حوالے سے نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں، वहीं اس نے خطے میں دہشت گردی کے بدلتے ہوئے طریقہ کار (Modus Operandi) کو بھی نمایاں کیا ہے

واقعہ کیا تھا

حکام کے مطابق، چمن پھاٹک کے قریب ریلوے ٹریک کو اس وقت نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی جب وہاں سے ٹرین گزر رہی تھی۔ خاتون خودکش بمبار نے ٹرین کے قریب پہنچ کر خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔ دھماکہ اتنا شدید تھا کہ اس کی آواز دور دور تک سنی گئی، جس کے نتیجے میں ریلوے ٹریک کو نقصان پہنچا اور قریبی عمارتوں کے شیشے ٹوٹ گئے۔ واقعے کے فوراً بعد سیکیورٹی فورسز اور ریسکیو ٹیموں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر امدادی کارروائیاں شروع کر دیں

دہشت گردی کا بدلتا ہوا رجحان: خواتین کا بطور خودکش بمبار استعمال

سیکیورٹی ماہرین کے مطابق، بی ایل  BLA کی جانب سے حالیہ چند سالوں میں خواتین کو خودکش حملوں کے لیے استعمال کرنے کے رجحان میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ چمن پھاٹک کا واقعہ اس سلسلے کی تازہ ترین کڑی ہے

No comments:

Post a Comment

کوئٹہ چمن پھاٹک دھماکہ بی ایل اے کی خاتون خودکش بمبار اور بدلتے ہوئے سیکیورٹی چیلنجز

  کوئٹہ, بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں چمن پھاٹک کے قریب ریل گاڑی کو نشانہ بنانے والے حالیہ خودکش دھماکے نے ایک بار پھر ملک بھر کو ہلا کر...