لاہور باکو وفاقی تحقیقاتی ادارے FIA نے ایک انتہائی تشویشناک انکشاف کیا ہے کہ رواں سال وزٹ ویزے پر آذر بائیجان Azerbaijan جانے والے ہزاروں پاکستانی شہری واپس ہی نہیں لوٹے ایف آئی اے کے مطابق ان افراد کے واپس نہ آنے کی بڑی وجہ غیر قانونی طریقے سے یورپ میں داخل ہونے کی کوشش یا وہاں غیر قانونی طور پر مقیم ہونا ہے
ایف آئی اے کے امیگریشن ونگ کی جانب سے جاری کردہ حالیہ اعداد و شمار کے مطابق، رواں سال اب تک ہزاروں پاکستانیوں نے سیاحت اور بزنس ویزے پر آذر بائیجان کا رخ کیا۔ تاہم، ویزے کی مدت ختم ہونے کے باوجود تقریباً 7 ہزار پاکستانی واپس پاکستان نہیں پہنچے
انسانی اسمگلرز کا نیا روٹ: آذر بائیجان
ذرائع کا کہنا ہے کہ آذر بائیجان، خاص طور پر اس کا دارالحکومت باکو، حالیہ دنوں میں پاکستانیوں کے لیے ایک مقبول سیاحتی مقام بن کر ابھرا ہے، لیکن انسانی اسمگلرز Agents اب اس روٹ کو غیر قانونی تارکین وطن کے لیے استعمال کر رہے ہیں
یورپ کا خواب: ایجنٹس سادہ لوح شہریوں کو آذر بائیجان کے راستے یورپی ممالک جیسے ترکی یا روس کی سرحد کے قریب سے داخل کرانے کا جھانسہ دیتے ہیں
سختیاں اور خطرات: اس غیر قانونی سفر کے دوران شہریوں کو شدید سفری مشکلات، گرفتاری اور بعض اوقات جان لیوا خطرات کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے
ایف آئی اے کا کریک ڈاؤن اور اقدامات
ایف آئی اے نے اس معاملے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے ملک بھر کے ائیرپورٹس پر امیگریشن چیکنگ مزید سخت کر دی ہے
ایف آئی اے حکام کا مؤقف
ایسے تمام مسافر جو وزٹ ویزے پر آذر بائیجان جا رہے ہیں ان کے پاس ریٹرن ٹکٹ، ہوٹل بکنگ اور مناسب سفری اخراجات Show Money کا ہونا لازمی قرار دیا گیا ہے۔ شک کی بنیاد پر کئی مشکوک افراد کو ائیرپورٹس سے آف لوڈ بھی کیا جا رہا ہے تاکہ پاکستان کی بدنامی کا سبب بننے والے عناصر کو روکا جا سکے
پاکستان اور آذر بائیجان کے تعلقات پر اثرات
ماہرینِ خارجہ امور کا کہنا ہے کہ اس قسم کے رجحانات سے دونوں برادر ممالک کے سفارتی تعلقات اور مستقبل میں پاکستانیوں کے لیے ویزا پالیسی پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں اگر یہ سلسلہ نہ رکا تو آذر بائیجان پاکستانی شہریوں کے لیے ویزا قوانین کو مزید سخت کر سکتا ہے جس سے حقیقی سیاحوں اور کاروباری افراد کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا

No comments:
Post a Comment