اسلام آباد: وفاقی دارالحکومت کی انسداد دہشت گردی عدالت ATC نے 4 اکتوبر کو پاکستان تحریک انصاف PTI کے احتجاج کے دوران پولیس اہلکار کی شہادت کے کیس میں سخت کارروائی کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے ہیں
کیس کا پس منظر اور عدالتی کارروائی
انسداد دہشت گردی عدالت کے جج نے کیس کی سماعت کے دوران ملزمان کی عدم پیشی پر سخت برہمی کا اظہار کیا عدالت نے پولیس کو حکم دیا ہے کہ وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کو گرفتار کر کے مقررہ تاریخ تک عدالت کے سامنے پیش کیا جائے
یاد رہے کہ یہ مقدمہ 4 اکتوبر کو اسلام آباد میں پی ٹی آئی کے احتجاج کے دوران ہونے والے پرتشدد واقعات اور اس کے نتیجے میں ڈیوٹی پر مامور پولیس اہلکار کی شہادت کے بعد درج کیا گیا تھا۔ اس کیس میں وزیر اعلیٰ سمیت پی ٹی آئی کی اعلیٰ قیادت کو نامزد کیا گیا ہے
اہم نکات
واقعہ 4 اکتوبر پی ٹی آئی احتجاج اور پولیس اہلکار کی شہادت
عدالتی حکم وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری
الزامات: دہشت گردی کارِ سرکار میں مداخلت اور تشدد پر اکسانا
اس اہم پیش رفت کے بعد صوبائی اور وفاقی حکومت کے درمیان سیاسی تناؤ میں مزید شدت آنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے پی ٹی آئی کی جانب سے اس عدالتی فیصلے کو سیاسی انتقام قرار دیا جا رہا ہے جبکہ حکومتی حلقوں کا موقف ہے کہ قانون سب کے لیے برابر ہے

No comments:
Post a Comment