اسلام آباد ویب ڈیسک: سینیئر صحافی رضوان غلزئی کے مطابق، اڈیالہ جیل میں قید بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ایک انتہائی اہم شخصیت نے ملاقات کی ہے، جس میں ملکی سیاسی صورتحال اور ان کی رہائی کے حوالے سے اہم پیشرفت سامنے آئی ہے ذرائع کا کہنا ہے کہ اس ملاقات میں کچھ لو اور کچھ دو کی بنیاد پر شرائط سامنے رکھی گئیں، جن پر عمران خان کا مؤقف بھی سامنے آگیا ہے
ملاقات کی اندرونی کہانی: عمران خان کس بات پر راضی اور کس پر انکاری
مصدقہ ذرائع کے مطابق، اس اہم ملاقات میں عمران خان نے واضح کیا ہے کہ وہ جیل سے باہر آنے کے بعد کسی قسم کی انتقامی کارروائی کا ارادہ نہیں رکھتے اور ملک کو آگے لے جانے کے حق میں ہیں۔ تاہم، انہوں نے مقتدر حلقوں یا حکومت کی جانب سے رکھی گئی سخت شرائط کو تسلیم کرنے سے صاف انکار کر دیا ہے
خبر کے مطابق عمران خان درج ذیل نکات پر ڈٹ گئے ہیں:
ہاؤس اریسٹ گھر میں نظر بندی عمران خان نے جیل سے نکل کر اپنے گھر بنی گالا یا زمان پارک میں نظر بند ہونے کی شرط کو مسترد کر دیا ہے
سیاسی سرگرمیوں پر پابندی: کچھ عرصے کے لیے سیاست سے دور رہنے یا خاموشی اختیار کرنے کی شرط پر بھی کپتان آمادہ نہیں ہوئے
سیٹلمنٹ کے بجائے قانون پر اصرار: بانی پی ٹی آئی کا کہنا ہے کہ وہ کسی بھی قسم کی "ڈیل" یا سیٹلمنٹ کے بجائے صرف اور صرف قانون اور آئین کے مطابق اپنی رہائی چاہتے ہیں"انتقام نہیں لوں گا – کپتان کا بڑا بیان
ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان نے اس ملاقات میں لچک کا مظاہرہ کرتے ہوئے یہ یقین دہانی ضرور کروائی کہ باہر آکر وہ کسی سے سیاسی انتقام نہیں لیں گے، تاکہ ملک میں جاری سیاسی عدم استحکام اور تناؤ کا خاتمہ ہو سکے۔ لیکن انہوں نے اپنے سیاسی حقوق اور آزادی پر کسی بھی قسم کا سمجھوتہ کرنے سے واضح طور پر منع کر دیا ہے
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق، رضوان غلزئی کی اس بریکنگ نیوز کے بعد ملکی سیاست میں ایک نیا ارتعاش پیدا ہو گیا ہے اور یہ واضح ہو گیا ہے کہ عمران خان جیل میں ہونے کے باوجود اپنے مؤقف پر قائم ہیں اور کسی "بیک ڈور ڈیل کا حصہ بننے کو تیار نہیں ہیں

No comments:
Post a Comment