اسلام آباد وفاقی آئینی عدالت نے مبینہ زیادتی کے خلاف ایک خاتون کی جانب سے دائر کی گئی درخواست کو ناقابلِ یقین قرار دیتے ہوئے خارج کر دیا ہے عدالت کا کہنا تھا کہ ایسی کہانیاں صرف فلموں میں ہی دیکھنے کو ملتی ہیں
جسٹس حسن رضوی کی سربراہی میں قائم تین رکنی بینچ نے اس عجیب و غریب کیس کی سماعت کی۔ سماعت کے دوران کیس میں اس وقت ڈرامائی موڑ آیا جب عدالت کے سامنے واقعاتی ترتیب پیش کی گئی
'زیادتی کے بعد اسی شخص سے شادی کیوں کی
سماعت کے آغاز پر بینچ کے سربراہ جسٹس حسن رضوی نے خاتون کے مؤقف پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ
"اگر خاتون کے ساتھ زیادتی ہوئی تھی، تو انہوں نے اسی مبینہ ملزم سے شادی کیوں کر لی
اس سوال پر خاتون کی وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ملزم نے اپنے جرم پر پردہ ڈالنے اور قانون سے بچنے کے لیے خاتون سے شادی کا ناٹک رچایا تھا
9 دن میں شادی 40 دن میں طلاق
بینچ میں شامل جسٹس روزی خان نے معاملے کی گہرائی میں جاتے ہوئے استفسار کیا کہ اگر شادی ہو ہی گئی تھی، تو پھر بات طلاق تک کیسے پہنچی اور یہ سب کب ہوا
خاتون کی وکیل نے عدالت کو تاریخوں کی جو تفصیلات بتائیں وہ کچھ یوں ہیں

No comments:
Post a Comment