لاہور ویب ڈیسک لاہور ہائیکورٹ نے ملک میں بجلی اور گیس کی غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کے خلاف دائر مفادِ عامہ کی درخواست کو غیر ضروری اور عدالتی وقت کا ضیاع قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے عدالت نے غیر سنجیدہ مقدمہ بازی پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے درخواست گزار پر ایک لاکھ روپے کا جرمانہ بھی عائد کر دیا
تفصیلات کے مطابق لاہور ہائیکورٹ کے معزز جج نے شہری کی جانب سے دائر کردہ آئینی درخواست پر سماعت کی درخواست گزار نے موقف اختیار کیا تھا کہ گرمی کی شدت بڑھتے ہی شہر کے مختلف علاقوں میں بجلی اور گیس کی غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کا سلسلہ تیز ہو گیا ہے جس سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے درخواست میں استدعا کی گئی تھی کہ عدالت متعلقہ محکموں کو غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ فوری بند کرنے کا حکم دے
عدالت کے ریمارکس اور فیصلہ
سماعت کے دوران عدالت نے درخواست کے قابلِ سماعت ہونے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔ معزز عدالت کا کہنا تھا کہ لوڈشیڈنگ اور توانائی کے مسائل انتظامی نوعیت کے معاملات ہیں جنہیں حل کرنا حکومت اور متعلقہ اداروں کا کام ہے۔ عدالتوں کا وقت انتہائی قیمتی ہے اور اس طرح کی غیر ضروری درخواستیں دائر کر کے عدالتی وقت ضائع کیا جاتا ہے
ایسی درخواستیں محض سستی شہرت حاصل کرنے کے لیے دائر کی جاتی ہیں جن کا کوئی ٹھوس قانونی جواز نہیں ہوتا لاہور ہائیکورٹ
عدالت عالیہ نے درخواست کو ناقابلِ سماعت قرار دے کر مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار پر ایک لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا اور حکم دیا کہ جرمانے کی رقم مقررہ وقت کے اندر قومی خزانے میں جمع کرائی جائے

No comments:
Post a Comment