مشرقِ وسطیٰ کی کشیدگی اب ایک ایسے نہج پر پہنچ چکی ہے جہاں جنگ کے بادل پورے خطے پر گہرے ہوتے جا رہے ہیں ایران اور اسرائیل کے درمیان براہِ راست تصادم کے بعد اب اس جنگ میں ایک نیا اور انتہائی اہم موڑ آ گیا ہے۔ یمن نے بھی باقاعدہ طور پر اس جنگ میں انٹری مارتے ہوئے اسرائیل پر بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز سے تابڑ توڑ حملے کر دیے ہیں
اس نئی پیش رفت نے نہ صرف اسرائیل بلکہ عالمی طاقتوں کو بھی تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ آئیے جانتے ہیں کہ یمن کی اس انٹری کے پیچھے کیا محرکات ہیں اور اس کے خطے پر کیا اثرات مرتب ہو سکتے ہیں
یمن کا اسرائیل پر حملہ: کیا ہوا
حالیہ رپورٹس کے مطابق، یمن کی حوثی فورسز نے اسرائیل کے مختلف تزویراتی Strategic مقامات کو نشانہ بناتے ہوئے طویل فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائل اور ڈرونز داغے ہیں
اسرائیل کا ردِعمل: اسرائیلی دفاعی نظام آئرن ڈوم اور ایرو سسٹم نے کچھ میزائلوں کو فضا میں ہی تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے تاہم یمن کی جانب سے یہ حملے اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ اب جنگ کا دائرہ کار اسرائیل کی سرحدوں سے بہت دور تک پھیل چکا ہے
یمن کا مؤقف: یمنی حکام کا کہنا ہے کہ یہ حملے غزہ اور لبنان کے مظلوم مسلمانوں سے اظہارِ یکجہتی اور اسرائیل کی جارحیت کے جواب میں کیے گئے ہیں، اور جب تک اسرائیل اپنی کارروائیاں بند نہیں کرتا، یہ حملے جاری رہیں گے
ایران کے بعد یمن محورِ مزاحمت' Axis of Resistance کا اتحاد
ایران کی جانب سے اسرائیل پر کیے گئے حالیہ میزائل حملوں کے بعد یمن کا اس جنگ میں کودنا کوئی اتفاقی واقعہ نہیں ہے ماہرین اسے "محورِ مزاحمت کی ایک مربوط حکمتِ عملی کے طور پر دیکھ رہے ہیں
ایران براہِ راست میزائل حملے اور مزاحمتی گروپوں کی پشت پناہی
لبنان حزب اللہ شمالی اسرائیل پر مسلسل راکٹ اور ڈرون حملے
یمن حوثی فورسز بحیرہ احمر Red Sea کی ناکہ بندی اور طویل فاصلے کے میزائل حملےیمن کی شمولیت سے اسرائیل کے لیے اب ایک نہیں، بلکہ تین مختلف محاذ غزہ، لبنان اور یمن کھل چکے ہیں جس سے اسرائیلی دفاعی صلاحیتوں پر دباؤ شدید ہو گیا ہے۔
بحیرہ احمر کی صورتحال اور عالمی معیشت پر اثرات
یمن صرف میزائل حملوں تک محدود نہیں ہے، بلکہ اس کی جغرافیائی پوزیشن اسے اس جنگ کا سب سے خطرناک کھلاڑی بناتی ہے یمن نے بحیرہ احمر Red Sea اور باب المندب سے گزرنے والے اسرائیلی اور اس کے اتحادی جہازوں کو نشانہ بنانے کا سلسلہ تیز کر دیا ہے
اہم نکتہ: دنیا کی تقریباً 12 فیصد تجارت بحیرہ احمر کے راستے ہوتی ہے۔ یمن کی انٹری سے عالمی سپلائی چین بری طرح متاثر ہو رہی ہے، جس کے نتیجے میں آنے والے دنوں میں عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافہ اور مہنگائی کی نئی لہر آ سکتی ہے
کیا یہ عالمی جنگ کی شروعات ہے
یمن کی اس انٹری نے امریکہ اور اس کے مغربی اتحادیوں کو بھی الرٹ کر دیا ہے۔ امریکی بحریہ پہلے ہی بحیرہ احمر میں موجود ہے، اور اب خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اگر یمن کے حملے بڑھے تو امریکہ براہِ راست یمن کے اندر کارروائی کر سکتا ہے، جس سے یہ علاقائی جنگ ایک عالمی تصادم میں تبدیل ہو سکتی ہے
آخری بات
مشرقِ وسطیٰ اس وقت بارود کے ڈھیر پر کھڑا ہے ایران کے بعد یمن کے میزائل حملوں نے ثابت کر دیا ہے کہ اب اسرائیل کے لیے جنگ یکطرفہ نہیں رہی۔ عالمی برادری کی خاموشی اور جنگ بندی کی کوششوں میں ناکامی دنیا کو ایک ایسے ہولناک بحران کی طرف دھکیل رہی ہے جس کے اثرات صرف مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہیں رہیں گے

No comments:
Post a Comment