امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کو روکنے کے لیے اسرائیل سے پرزور اپیل کی ہے کہ وہ ایران پر جوابی حملہ کرنے سے گریز کرے۔ صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک کی طرف سے کارروائیاں ہو چکی ہیں اور اب اس سلسلے کو یہیں رکنا چاہیے
"جنگ بندی کا معاہدہ قریب ہے بات خراب نہیں ہونی چاہیے"
امریکی صدر نے اپنے حالیہ بیان میں واضح کیا کہ ایران کی طرف سے حالیہ میزائل حملے میں کوئی بڑا نقصان نہیں ہوا، اس لیے اسرائیل کو تحمل کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر اسرائیلی وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاہو نے دوبارہ حملہ کیا تو یہ سلسلہ کبھی ختم نہیں ہوگا اور خطہ مسلسل جنگ کی لپیٹ میں رہے گا
صدر ٹرمپ نے ایک اہم پیشرفت کا انکشاف کرتے ہوئے کہا:
"ہم اس وقت جنگ ختم کرنے کے ایک بہترین معاہدے کے بالکل قریب پہنچ چکے ہیں۔ میں ہرگز نہیں چاہتا کہ اسرائیل کے کسی نئے حملے کی وجہ سے یہ اہم ترین بات چیت خراب ہو
اب مزید کوئی حملہ قبول نہیں
امریکی صدر نے دوٹوک انداز میں کہا کہ دونوں اطراف (ایران اور اسرائیل) سے حملے ہو چکے ہیں اور حساب برابر ہو چکا ہے۔ اب وہ خطے میں کسی بھی قسم کا نیا حملہ یا کشیدگی نہیں دیکھنا چاہتے کیونکہ ترجیح امن اور معاہدے کو یقینی بنانا ہے
بلاگ ایڈمن کا نوٹ تجزیہ
ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ بیان ظاہر کرتا ہے کہ امریکی انتظامیہ اس وقت مشرقِ وسطیٰ میں فوری جنگ بندی کے لیے شدید دباؤ ڈال رہی ہے اب گیند اسرائیل کے کورٹ میں ہے کہ آیا وہ اپنے سب سے بڑے اتحادی کی بات مانتا ہے یا خطے کو ایک نئی جنگ کی طرف دھکیلتا ہے

No comments:
Post a Comment