تحریر: حامد میر
سیاست میں نہ تو کوئی مستقل دشمن ہوتا ہے اور نہ ہی مستقل دوست، لیکن جب بات امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ہو تو یہ مقولہ ایک بالکل نیا رخ اختیار کر لیتا ہے
آج سے دو سال قبل، یعنی 2024 میں جب ڈونلڈ ٹرمپ دوسری بار وائٹ ہاؤس کے سنگھاسن پر براجمان ہوئے، تو انہوں نے آتے ہی پاکستان کو ایک زوردار جھٹکا دیا۔ ٹرمپ انتظامیہ نے پاکستان کے میزائل پروگرام پر کڑی پابندیاں عائد کر دیں۔ وہ پابندیاں، جنہوں نے ہماری دفاعی اور عسکری قیادت کو تشویش میں مبتلا کر دیا اور ملکی سلامتی پر کئی سوالیہ نشان کھڑے کر دیے۔ اسلام آباد کے سفارتی حلقوں میں ایک ہلچل سی مچ گئی تھی کہ اب پاک-امریکہ تعلقات کس نہج پر جائیں گے
لیکن آج، یعنی دو سال بعد صورتحال یہ ہے کہ پاکستانی عوام اور میڈیا کی یادداشت سے وہ سخت ترین پابندیاں تقریباً محو ہو چکی ہیں۔ کیوں؟ کیونکہ گزشتہ ایک سال کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک حیرت انگیز یو-ٹرن لیا ہے۔ وہ ٹرمپ جو پاکستان پر تنقید کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے تھے، گزشتہ ایک سال میں پاکستان کی سیاسی اور ملٹری قیادت کی 50 سے زائد بار علانیہ تعریفیں کر چکے ہیں
کبھی وہ پاکستانی قیادت کے عزم کو سراہتے ہیں، تو کبھی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہماری قربانیوں کا اعتراف کرتے نظر آتے ہیں
تعریفوں کا جادو یا سفارتی سراب
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ٹرمپ کے ان تعریفی کلمات نے پاکستان کے میزائل پروگرام پر لگی پابندیوں کا اثر ختم کر دیا ہے حقیقت یہ ہے کہ ٹرمپ کی اس "سفارتی خوش اخلاقی نے ہمارے مقتدر حلقوں کو ایک تسلی تو بخشی ہے لیکن زمینی حقائق آج بھی وہی ہیں
ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ امریکی پالیسیاں بیانات سے نہیں، بلکہ تحریری معاہدوں اور پینٹاگون کے فیصلوں سے چلتی ہیں ٹرمپ کا یہ اندازِ گفتگو ان کی مخصوص کاروباری اور سیاسی حکمتِ عملی کا حصہ ہےایک ہاتھ سے دباؤ ڈالو اور دوسرے ہاتھ سے تھپکی دوٹرمپ کا ایکشن 2024 ٹرمپ کا ری ایکشن گزشتہ 1 سال
پاکستان کے میزائل پروگرام پر سخت پابندیاں عائد کیں۔ پاکستانی سیاسی و ملٹری قیادت کی 50 سے زائد بار تعریف کی
پاکستان پر سفارتی اور دفاعی دباؤ بڑھایا۔ خطے میں پاکستان کے کلیدی کردار کا اعتراف کیاکیا ہم تاریخ سے سبق سیکھیں گے؟
پاکستان کی سیاسی اور ملٹری قیادت کے لیے یہ وقت خوش فہمی میں مبتلا ہونے کا نہیں بلکہ گہرے غور و فکر کا ہے۔ ماضی گواہ ہے کہ جب بھی امریکہ کو خطے میں اپنے مفادات عزیز ہوتے ہیں، وہ پاکستان کی تعریفوں کے پل باندھ دیتا ہے، اور جیسے ہی کام نکل جاتا ہے، ہمیں "ڈو مور" کا طعنہ دے کر اکیلا چھوڑ دیا جاتا ہے۔
ٹرمپ کی 50 سے زائد تعریفیں اپنی جگہ خوش آئند ہو سکتی ہیں، لیکن جب تک ہمارے میزائل پروگرام پر لگی پابندیاں عملی طور پر ختم نہیں ہوتیں اور پاکستان کو اس کا جائز دفاعی حق نہیں ملتا، تب تک ان بیانات کی حیثیت مٹی کے اس کھلونے جیسی ہے جو دیکھنے میں تو خوبصورت ہے مگر اس سے کوئی دفاعی جنگ نہیں جیتی جا سکتی۔
پاکستان کو اب "تعریفوں کی افیون" سے جاگنا ہوگا اور اپنی خود مختاری کا سودا کیے بغیر، اپنے پاؤں پر کھڑے ہونے کی طویل مدتی حکمتِ عملی بنانی ہوگی۔ کیونکہ ٹرمپ کا موڈ بدلتے دیر نہیں لگتی!

No comments:
Post a Comment