رپورٹ: RoozNews8
تاریخ: 3 جون 2026
تہران/واشنگٹن. مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر شدید جنگ کے دہانے پر پہنچ گیا ہے۔ ایران اور امریکہ کے درمیان دیرینہ کشیدگی نے اس وقت انتہائی خطرناک رخ اختیار کر لیا جب ایرانی افواج نے خلیجی ممالک بحرین کویت اور پڑوسی ملک عراق میں قائم امریکی فوجی اڈوں پر بیک وقت درجنوں بیلسٹک میزائلوں اور خودکش ڈرونز سے حملہ کر دیا
اس اچانک اور بڑے حملے کے بعد پورے خطے میں ہائی الرٹ جاری کر دیا گیا ہے جبکہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں بھی اچانک تیزی دیکھی جا رہی ہے
حملوں کی تفصیلات کہاں کہاں نشانہ بنایا گیا
ذرائع کے مطابق ایران کی جانب سے داغے گئے میزائلوں اور ڈرونز نے خلیج میں موجود اہم امریکی تنصیبات کو نشانہ بنایا
بحرین: بحرین میں قائم امریکی بحریہ کے پانچویں بیڑے US Fifth Fleet کے ہیڈ کوارٹر کے قریبی علاقوں میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں
کویت: کویت میں موجود امریکی فوجی کیمپوں پر ڈرون حملے کیے گئے، جہاں امریکی فضائی دفاعی نظام Patriot
کے متحرک ہونے کی اطلاعات ہیں
عراق: عراق میں عین الاسد اور اربیل میں قائم امریکی فوجی اڈوں پر متعدد بیلسٹک میزائل آ کر گرے، جس سے اڈوں کو شدید نقصان پہنچنے کی اطلاعات ہیں
پینٹاگون کا ردِعمل اور نقصانات کی تفصیلات
امریکی محکمہ دفاع (پینٹاگون) نے حملوں کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران نے بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی کی ہے۔ پینٹاگون کے ترجمان کا کہنا ہے کہ امریکی اور اتحادی افواج کے دفاعی نظام نے کئی میزائلوں اور ڈرونز کو فضا میں ہی تباہ کر دیا، تاہم کچھ مقامات پر نقصان ضرور ہوا ہے نقصانات اور جانی نقصان کے حوالے سے ڈیٹا اکٹھا کیا جا رہا ہے
امریکی صدر نے سیکیورٹی کونسل کا ہنگامی اجلاس طلب کر لیا ہے اور خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ امریکہ ایران کے خلاف کسی بھی وقت بڑے جوابی فوجی ایکشن کا اعلان کر سکتا ہے
ایران کا مؤقف یہ محض شروعات ہے
دوسری جانب ایرانی پاسدارانِ انقلاب IRGC نے ان حملوں کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے اسے امریکہ کی حالیہ جارحیت اور اشتعال انگیزیوں کا کرارا جواب قرار دیا ہے ایرانی سرکاری میڈیا پر جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اگر امریکہ یا اس کے اتحادیوں نے کسی بھی قسم کی جوابی کارروائی کی، تو اگلا نشانہ خطے میں موجود تمام امریکی مفادات اور ان کے سہولت کار ہوں گے
مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے بادل عالمی تشویش
اس تازہ ترین کشیدگی نے عالمی رہنماؤں کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے اقوامِ متحدہ UN نے دونوں ممالک سے فوری طور پر تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی ہے جبکہ مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر صورتحال کو فوری طور پر کنٹرول نہ کیا گیا تو یہ تنازعہ ایک وسیع علاقائی جنگ کی شکل اختیار کر سکتا ہے جس کے اثرات پوری دنیا کی معیشت پر پڑیں گے

No comments:
Post a Comment