اسرائیل کے انتہائی دائیں بازو کے رہنما اور وزیرِ خزانہ بیتسالیل سموٹریچ Bezalel Smotrich نے ایک بار پھر انتہائی متنازع اور سخت موقف اپناتے ہوئے فلسطینی ریاست کے قیام کے امکان کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔ انہوں نے واضح الفاظ میں کہا ہے کہ خطے میں دو ریاستی حل کا کوئی درمیانی راستہ موجود نہیں ہے
وزیرِ خزانہ سموٹریچ کے حالیہ بیانات نے بین الاقوامی سیاسی حلقوں میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے بلاگ کے قارئین کے لیے ان کے بیان کے اہم ترین نکات درج ذیل ہیں
فلسطینی ریاست کا کوئی وجود نہیں ہو سکتا
سموٹریچ نے دوٹوک انداز میں کہا فلسطینی ریاست نام کی کوئی چیز نہیں ہو سکتی اس معاملے میں اب کوئی سمجھوتہ ممکن نہیں اب صورتحال یہ ہے کہ یا وہ فلسطین) ہوں گے یا ہم اسرائیلی اس کا کوئی درمیان
راستہ نہیں ہے
اوسلو معاہدوں کا خاتمہ ناگزیر
اپنے بیان میں انہوں نے 1990ء کی دہائی میں ہونے والے تاریخی اوسلو امن معاہدوں Oslo Accords کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اب ان معاہدوں کو مکمل طور پر ختم کرنا ناگزیر ہو چکا ہے۔ ان کے مطابق یہ معاہدے اسرائیل کے مفادات کے خلاف ہیں اور ان کی اب کوئی حیثیت نہیں ہونی چاہیے
پورے خطے پر کنٹرول کا ہدف
اسرائیلی وزیرِ خزانہ نے اپنے عزائم کا اظہار کرتے ہوئے مزید کہا
ہمیں سیکیورٹی اور جغرافیائی لحاظ سے پورے خطے پر مکمل کنٹرول حاصل کرنا ہوگا
زمین پر حقیقت تبدیل کرنے کے لیے اقدامات کو تیز کرنا ہوگا۔
پسِ منظر اور عالمی ردِعمل
بیتسالیل سموٹریچ اپنے اس طرح کے بیانات اور مغربی کنارے West Bank میں اسرائیلی بستیوں کی توسیع کی کھلی حمایت کے لیے جانے جاتے ہیں۔ ان کا یہ تازہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب عالمی برادری بشمول امریکہ اور یورپی یونین، مشرقِ وسطیٰ میں مستقل امن کے لیے دو ریاستی حل" Two-State Solution پر زور دے رہی ہے
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سموٹریچ کے اس موقف سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھے گی اور مستقل جنگ بندی یا امن مذاکرات کی رہی سہی امیدیں بھی دم توڑ سکتی ہیں

No comments:
Post a Comment