اسلام آباد : معروف ماہرِ اقتصادیات ڈاکٹر شاہد حسن صدیقی نے ملکی معیشت اور بیرونی سرمایہ کاری کے حوالے سے ایک ایسا سنسنی خیز انکشاف کیا ہے جس نے اقتدار کے ایوانوں اور معاشی حلقوں میں ہلچل مچا دی ہے ان کا کہنا ہے کہ پچھلے چند سالوں کے دوران بینکنگ چینلز کے ذریعے پاکستان سے 210 ارب ڈالر کی خطیر رقم ملک سے باہر بھیجی گئی، جبکہ اس کے مقابلے میں پاکستان کا کل بیرونی قرضہ محض 138 ارب ڈالر ہے
ڈاکٹر شاہد حسن صدیقی نے سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے یہ سوال اٹھایا کہ آخر کس خوشی میں اور کن قوانین کے تحت لوگوں کو اتنی بڑی رقم ملک سے باہر بھیجنے کی اجازت دی گئی
معیشت کے ساتھ کھلواڑ ایک بڑا سوالیہ نشان
ماہرین کے مطابق اگر یہ 210 ارب ڈالر ملک کے اندر موجود رہتے یا انہیں قومی معیشت کی بہتری کے لیے استعمال کیا جاتا تو پاکستان کو کسی بھی عالمی مالیاتی ادارے IMF یا دوست ممالک کے سامنے ہاتھ پھیلانے کی ضرورت نہ پڑتی پچھلے چند سالوں میں جہاں ایک طرف عام شہری مہنگائی اور ٹیکسوں کے بوجھ تلے دبا رہا وہیں دوسری طرف بینکوں کے قانونی راستوں کا استعمال کرتے ہوئے اربوں ڈالر باہر منتقل کر دیے گئے
قرضوں کا جال اور اشرافیہ کی مراعات
ڈاکٹر شاہد حسن صدیقی کا یہ بیان پاکستان کے معاشی ماڈل پر ایک کاری ضرب ہے
قرضوں کی صورتحال: پاکستان کا موجودہ بیرونی قرضہ تقریباً 138 ارب ڈالر ہے، جس کی اقساط اور سود کی ادائیگی کے لیے ملک کو مزید قرضے لینے پڑ رہے ہیں
سرمائے کا فرار Capital Flight بینکوں کے ذریعے 210 ارب ڈالر کا باہر جانا یہ ثابت کرتا ہے کہ ملک کا پیسہ یہاں کی ترقی پر لگانے کی بجائے باہر محفوظ کیا جا رہا ہے
عام عوام اب یہ پوچھنے پر مجبور ہیں کہ جب ملک معاشی ایمرجنسی کی صورتحال سے گزر رہا تھا تو اسٹیٹ بینک اور متعلقہ اداروں نے اس بڑے پیمانے پر سرمائے کی منتقلی پر خاموشی کیوں اختیار کیے رکھی

No comments:
Post a Comment