سفارتی حلقوں سے ایک ایسی غیر معمولی اور حیران کن پیش رفت سامنے آئی ہے جس نے خطے کی سیاست میں ہلچل مچا دی ہے۔ تاریخ میں شاید یہ پہلی بار ہو رہا ہے کہ امریکی انتظامیہ پاکستانی مقتدرہ رجیم پر اس حد تک غیر معمولی اعتماد کا اظہار کر رہی ہے کہ اس نے ایران کے ساتھ انتہائی حساس مذاکرات کے لیے اپنا کوئی الگ خصوصی نمائندہ ہی مقرر نہیں کیا
ماضی کے برعکس، جب افغان طالبان سے مذاکرات کے لیے امریکہ نے زلمے خلیل زاد کو اپنا خصوصی سفیر مقرر کر کے پوری مہم ان کے سپرد کی تھی، اس بار صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے ایران کے معاملے پر مکمل طور پر پاکستان پر انحصار کرنے کا فیصلہ کیا ہے
پاکستان پر امریکی اعتماد اہم سفارتی نکات
ذرائع کے مطابق، یہ ڈیولپمنٹ پاک امریکہ تعلقات اور خطے کی صورتحال میں ایک بڑا ٹرننگ پوائنٹ ثابت ہو سکتی ہے اس سفارتی مشن کے بنیادی خدوخال کچھ یوں ہیں:
پاکستان بطور مرکزی ثالث امریکی انتظامیہ کی جانب سے ایران کے ساتھ بیک چینل یا براہ راست مذاکرات کی پوری کمانڈ اس وقت پاکستانی رجیم کے ہاتھوں میں ہے
امریکی مفادات کا تحفظ واشنگٹن کو اس بات کا مکمل یقین اور اطمینان ہے کہ پاکستانی مقتدرہ امریکی مفادات کو سامنے رکھ کر ہی بات چیت کو آگے بڑھا رہی ہے
حتمی معاہدے کی تیاری پاکستان کا ہدف ایران کو ایک ایسے نقطے پر لانا ہے جہاں وہ امریکی شرائط اور مفادات کے مطابق حتمی معاہدے پر راضی ہو جائے
صدر ٹرمپ کی حتمی منظوری پاکستان کی جانب سے گراؤنڈ ورک اور مذاکراتی عمل مکمل ہونے کے بعد، اس فائنل ڈیل یا معاہدے کی حتمی منظوری خود امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ دیں گے

No comments:
Post a Comment