روز نیوز امریکہ اور ایران کے مابین کشیدگی ایک بار پھر انتہائی خطرناک حد تک بڑھ گئی ہے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف سخت ترین موقف اپناتے ہوئے آج رات پھر سے فوجی حملے کرنے کا بڑا اعلان کر دیا ہے، جس کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے بادل گہرے ہو گئے ہیں
صدر ٹرمپ کا ہنگامی بیان
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی صدر نے ایک ہنگامی پریس کانفرنس اور اپنے سوشل میڈیا بیان میں واضح کیا ہے کہ ایران کی جانب سے حالیہ اشتعال انگیزیوں اور امریکی مفادات کو نقصان پہنچانے کی کوششوں کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا
"امریکہ اپنی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا اگر ایران نے اپنی حدود پار کیں، تو آج رات ہی اسے اس کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا اور امریکی افواج ایران پر فیصلہ کن ضرب لگائیں گی
حملوں کے ممکنہ اہداف اور الرٹ
امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون کے ذرائع کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ کے احکامات کے بعد امریکی فضائیہ اور بحریہ کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے۔ مبصرین کا ماننا ہے کہ اگر یہ حملے ہوتے ہیں تو ان کے ممکنہ اہداف درج ذیل ہو سکتے ہیں
ایران کے اہم فوجی اور پاسدارانِ انقلاب IRGC کے اڈے۔
ایران کے مبینہ نیوکلیئر اور میزائل معلوماتی مراکز
خلیج فارس میں موجود ایرانی بحری تنصیبات
عالمی سطح پر تشویش کی لہر
صدر ٹرمپ کے اس اچانک اور جارحانہ اعلان نے دنیا بھر میں ہلچل مچا دی ہے اقوامِ متحدہ UN اور یورپی یونین نے دونوں ممالک سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی ہے جبکہ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں بھی اچانک اضافے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے

No comments:
Post a Comment