امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی خارجہ پالیسی اور ان کے حالیہ سیاسی فیصلوں نے عالمی سیاست کے ساتھ ساتھ خود ان کے اپنے سیاسی مستقبل پر بھی گہرے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، ٹرمپ کی جانب سے ماضی میں کیے گئے فیصلے اور موجودہ جیو پولیٹیکل منظر نامہ ان کے لیے ایک بڑے سیاسی بحران کی شکل اختیار کرتا جا رہا ہے جسے سیاسی ہلاکت کا سفر قرار دیا جا رہا ہے
ایران معاہدہ ایک تزویراتی غلطی
ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے دورِ صدارت میں ایران کے ساتھ ہونے والے عالمی جوہری معاہدے JCPOA سے یکطرفہ علیحدگی اختیار کی تھی اور تہران پر سخت معاشی پابندیاں عائد کی تھیں۔ ٹرمپ کا دعویٰ تھا کہ یہ تکلیف دہ پابندیاں ایران کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیں گی
تاہم، موجودہ صورتحال اس کے برعکس نظر آتی ہے ماہرین کا کہنا ہے کہ اس فیصلے نے ایران کو جوہری افزودگی تیز کرنے کا موقع فراہم کیا اور واشنگٹن کو سفارتی طور پر تنہا کر دیا اب جبکہ خطے میں کشیدگی عروج پر ہے، ٹرمپ کی یہ پالیسی امریکی سلامتی کے لیے ایک بڑا سوالیہ نشان بن چکی ہے اور ان کے سیاسی مخالفین اسے ان کی سب سے بڑی سفارتی ناکامی قرار دے رہے ہیں
عرب-اسرائیلی بے چینی اور ابراہم اکارڈز کا مستقبل
ٹرمپ کے دور کا ایک بڑا کارنامہ ابراہم اکارڈز عرب اسرائیل تعلقات کی بحالی کو مانا جاتا تھا، لیکن موجودہ مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال نے اس معاہدے کی بنیادوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے
عرب ممالک کا بدلتا ہوا رخ غزہ اور وسیع تر خطے میں جاری کشیدگی کی وجہ سے عرب ممالک میں شدید عوامی اور سیاسی بے چینی پائی جاتی ہے
سفارتی دباؤ: عرب قیادت اب عوامی دباؤ کے تحت اسرائیل کے ساتھ کھلے عام کھڑے ہونے سے کتراتی نظر آ رہی ہے جس سے ٹرمپ کا تیار کردہ امن کا روڈ میپ بکھرتا ہوا دکھائی دے رہا ہے
امریکی طاقت کی کمزوری اور عالمی ساکھ کو دھچکاٹرمپ کی سب سے پہلے امریک America First پالیسی نے اتحادیوں کے اعتماد کو ٹھیس پہنچائی۔ نیٹو NATO ممالک کے ساتھ سرد مہر رویہ اور عالمی اداروں سے علیحدگی نے یہ تاثر دیا کہ امریکہ اب عالمی قیادت کا بوجھ اٹھانے کے قابل نہیں رہا یا اس سے پیچھے ہٹ رہا ہے
چین اور روس کی بڑھتی ہوئی جارحیت اور مشرقِ وسطیٰ میں امریکی اثر و رسوخ کی کمی کو ٹرمپ کی اسی کمزور اور غیر مستقل مزاج خارجہ پالیسی کا نتیجہ قرار دیا جا رہا ہے
تجزیہ کاروں کی رائے
ڈونلڈ ٹرمپ نے جس جارحانہ خارجہ پالیسی کو اپنی طاق بنا کر پیش کیا تھا وہی اب ان کے سیاسی گلے کا طوق بنتی جا رہی ہے۔ ایران، عرب دنیا اور عالمی اتحادیوں کے ساتھ بگڑتے ہوئے تعلقات نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ پاپولسٹ نعروں سے عالمی سیاست نہیں چلائی جا سکتی

No comments:
Post a Comment