اسلام آباد: پاکستان کی سیاست میں ایک بار پھر بھونچال آ گیا ہے۔ سابق وزیر اعظم عمران خان کی جیل سے باہر آمد کے حوالے سے جہاں ان کے حامی جشن منا رہے ہیں، وہیں سیاسی حلقوں اور اندرونی ذرائع کی طرف سے چونکا دینے والے انکشافات سامنے آ رہے ہیں۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ عمران خان کو ریلیف ملنا کوئی عام قانونی عمل نہیں، بلکہ اس کے پیچھے گہرے سیاسی مقاصد چھپے ہیں
حکومت کو بیک فٹ پر لانے کی حکمت عملی
ذرائع کے مطابق، عمران خان کی اچانک رہائی یا انہیں ملنے والے ریلیف کا سب سے بڑا مقصد موجودہ مخلوط حکومت پر شدید سیاسی دباؤ بڑھانا ہے
سیاسی توازن: اسٹیبلشمنٹ اور پسِ پردہ قوتیں موجودہ حکومت کو یہ باور کروانا چاہتی ہیں کہ وہ مکمل طور پر بااختیار نہیں ہیں
حکومتی گرفت کمزور کرنا: خان صاحب کی باہر موجودگی سے حکومت دفاعی پوزیشن Defensive Mode پر چلی جائے گی، جس سے ان کی توجہ معیشت اور گورننس سے ہٹ کر صرف اپنی بقا کی جنگ پر مرکوز ہو جائے گی
کشمیر کے اہم ترین مسئلے سے توجہ ہٹانے کا حربہ
بلاگ اور سیاسی حلقوں میں اس وقت سب سے زیادہ بحث اس نکتے پر ہو رہی ہے کہ کیا یہ سب کچھ کسی بڑے بین الاقوامی یا علاقائی منظر نامے کو چھپانے کے لیے کیا جا رہا ہے
ذرائع کا کہنا ہے"اس وقت کشمیر کی صورتحال اور وہاں ہونے والی حالیہ اہم پیش رفتوں پر عالمی اور ملکی سطح پر جو فوکس ہونا چاہیے تھا وہ عمران خان کی رہائی کے شور میں دب کر رہ گیا ہے۔ میڈیا اور عوام کی تمام تر توجہ کشمیر کے نازک مسئلے سے ہٹا کر اندرونی سیاسی تماشے پر کیا یہ کوئی ڈیل ہے
سیاسی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ پاکستان میں جب بھی اتنے بڑے لیڈر کو اچانک ریلیف ملتا ہے، تو اس کے پیچھے "لو اور دو" Give and Take کی پالیسی کارفرما ہوتی ہےلگا نقطہ نظرممکنہ وجہہے
حکومت کا موقفیہ عدالتی ریلیف ہےہمارا اس میں کوئی کردار نہیں
تحریک انصاف کا موقفیہ کپتان کی جرات اور عوامی دباؤ کی جیت ہے
ذرائع اور مبصرینیہ ایک سوچی سمجھی گیم ہے تاکہ اقتدار کے ایوانوں میں طاقت کا توازن برقرار رکھا جا سکے۔دی گئی عمران خان جیل سے باہر آ کر حکومت کے لیے کتنے بڑے چیلنج ثابت ہوتے ہیں، یہ تو وقت ہی بتائے گالیکن ایک بات طے ہے اس وقت ملک کی توجہ اصل عوامی اور قومی مسائل جیسے کشمیر اور مہنگائی سے ہٹ کر ایک بار پھر سیاسی اکھاڑے پر لگ چکی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ حکومت اس پریشر کو کیسے جھیلتی ہے اور تحریک انصاف اس موقعے کا کیا فائدہ اٹھاتی ہے

No comments:
Post a Comment