پاکستان کو ایک جدید اور دستاویزی معیشت Documented Economy بنانے کی جانب موجودہ حکومت نے ایک بڑا قدم اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے۔ وزیر اعظم کا خواب ہے کہ ملک کو کیش لیس اکانومی Cashless Economy کی طرف منتقل کیا جائے، اور اس خواب کو تعبیر دینے کے لیے 35 لاکھ تاجروں کو ٹیکس نیٹ اور ڈیجیٹل نظام کا حصہ بنانے کی تیاری کر لی گئی ہے۔
اس اسکیم کے اصل خالق وزیر مملکت برائے خزانہ بلال کیانی نے اس حوالے سے اہم گفتگو کی ہے جس نے جہاں ایک طرف تاجر برادری میں امید پیدا کی ہے وہاں دوسری طرف کئی اہم سوالات کو بھی جنم دیا ہے
اسکیم کا بنیادی محور"پوچھ گچھ سے ہر طرح کی چھوٹ
وزیر مملکت برائے خزانہ بلال کیانی کے مطابق، اس نئی تاجر ٹیکس اسکیم کو انتہائی پرکشش اور آسان بنایا گیا ہے۔ اسکیم کی سب سے بڑی خاصیت یہ ہے کہ اس میں شامل ہونے والے تاجروں کو ہر طرح کی پوچھ گچھ اور آڈٹ سے استثنیٰ چھوٹ دیا جائے گا
حکومت کا مؤقف ہے کہ
تاجروں کو ہراساں کیے جانے کا خوف ختم کیا جائے گا
ایف بی آر FBR کے افسران بار بار دکانوں کا رخ نہیں کریں گے
ٹیکس کا طریقہ کار اتنا سادہ ہوگا کہ کسی پیچیدہ کاغذی کارروائی کی ضرورت نہیں رہے گی
بلال کیانی کا کہنا ہے ہم تاجروں کو ڈرا کر نہیں بلکہ ان کا اعتماد جیت کر معیشت کا حصہ بنانا چاہتے ہیں۔ جب انہیں یقین ہوگا کہ ان سے کوئی اضافی یا ناجائز پوچھ گچھ نہیں ہوگی تو وہ خود بخود اس اسکیم کا حصہ بنیں گے
وزیر اعظم کا کیش لیس اکانومی کا خواب کیسے پورا ہوگا؟
پاکستان میں اس وقت ایک بہت بڑی غیر دستاویزی Black/Informal معیشت چل رہی ہے جہاں زیادہ تر لین دین نقد Cash کی صورت میں ہوتا ہے۔ وزیر اعظم کے کیش لیس خواب کو پورا کرنے کے لیے حکومت درج ذیل حکمت عملی اپنا رہی ہے
ڈیجیٹل ادائیگیوں کا فروغ: دکانوں پر پوائنٹ آف سیل POS) نظام اور موبائل ویلیٹس جیسے ایزی پیسہ جیز کیش، یا بینک ایپس کے استعمال کو لازمی اور سستا بنایا جائے گا
انعامی اسکیمیں اور مراعات: ڈیجیٹل پیمنٹ کرنے والے صارفین اور تاجروں کے لیے خصوصی رعایتیں متعارف کروائی جائیں گی
مراحل وار منتقلی پہلے مرحلے میں بڑے شہروں کے تجارتی مراکز اور پھر بتدریج چھوٹے تاجروں کو ڈیجیٹل دھارے میں لایا جائے گا
اسکیم پر اٹھنے والے اہم سوالات اور چیلنجز
جہاں یہ اسکیم کاغذ پر بہت شاندار دکھائی دیتی ہے وہاں معاشی ماہرین اور عوامی حلقوں کی جانب سے کچھ سنجیدہ سوالات بھی اٹھائے جا رہے ہیں
کیا پوچھ گچھ سے چھوٹ کا غلط فائدہ نہیں اٹھایا جائے گا؟ ماہرین کا پوچھنا ہے کہ اگر تاجروں سے آمدن کے ذرائع پر کوئی سوال نہیں ہوگا، تو اس سے ٹیکس چوری کو چھپانے کا موقع مل سکتا ہے
تاجر برادری کا روایتی مزاحمت کا رویہ: ماضی میں بھی ایسی کئی اسکیمیں آئیں لیکن تاجروں نے ہڑتالوں اور احتجاج کے ذریعے انہیں ناکام بنا دیا کیا اس بار حکومت تاجروں کو قائل کر پائے گی
انفراسٹرکچر کی کمی: کیا پاکستان کے چھوٹے شہروں اور دیہی علاقوں کے تاجر اور عوام کیش لیس نظام انٹرنیٹ، اسمارٹ فونز، بینک اکاؤنٹس کے لیے تیار ہیں
تجزیہ: کامیابی کا دارومدار کس چیز پر ہے
بلال کیانی کی یہ اسکیم بلاشبہ معیشت کو درست سمت میں لے جانے کی ایک سنجیدہ کوشش ہے تاہم اس کی کامیابی کا دارومدار صرف چھوٹ دینے پر نہیں، بلکہ سخت مانیٹرنگ اور تاجروں کے ساتھ مضبوط مکالمے پر ہے اگر حکومت تاجروں کا اعتماد بحال رکھنے اور ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کو سستا کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہے، تو یہ پاکستان کی معاشی تاریخ کا ایک بڑا ٹرننگ پوائنٹ ثابت ہو سکتا ہے

No comments:
Post a Comment