اسلام آباد ۔۔۔۔۔
RoozNews8 آئندہ مالی سال 2026-27 کے بجٹ کی آمد سے قبل ہی سرکاری ملازمین اور حکومت کے درمیان محاذ آرائی کا آغاز ہو گیا ہے۔ آل پاکستان کلرکس ایسوسی ایشن (ایپکا) نے ملازمین کی تنخواہوں اور الاؤنسز میں تاریخی اور بھاری بھرکم اضافے کا مطالبہ کرتے ہوئے وفاقی دارالحکومت میں بڑے پیمانے پر احتجاج کا بگڑ بجا دیا ہے
ایپکا کے ہوش ربا مطالبات: تنخواہیں 200% بڑھانے کا تقاضا
تفصیلات کے مطابق، مہنگائی کے پسے ہوئے سرکاری ملازمین کے حقوق کے لیے ایپکا کی مرکزی قیادت نے حکومت کے سامنے ایک سخت 6 نکاتی مطالبہ نامہ پیش کیا ہے۔ ان مطالبات میں سب سے نمایاں مطالبہ سرکاری ملازمین کی بنیادی تنخواہوں میں 200 فیصد جبکہ ہاؤس رینٹ الاؤنس (مکان کے کرائے کا الاؤنس) میں 500 فیصد کا ناقابلِ یقین اضافہ ہے۔ ملازمین کا مؤقف ہے کہ موجودہ کمر توڑ مہنگائی میں موجودہ تنخواہوں کے ساتھ یوٹیلٹی بلز ادا کرنا اور گھر چلانا ناممکن ہو چکا ہے
2 جون: اسلام آباد میں گرینڈ احتجاج اور دھرنے کا اعلان
حکومت پر دباؤ بڑھانے کے لیے ایپکا نے 2 جون کل کو وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں ایک بہت بڑے احتجاجی مظاہرے کا باقاعدہ اعلان کر دیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس احتجاج میں ملک بھر سے ہزاروں کلرکس اور گریڈ 1 سے 16 تک کے سرکاری ملازمین شرکت کے لیے اسلام آباد پہنچ رہے ہیں۔ اس مظاہرے کے باعث دارالحکومت کی اہم شاہراہوں پر ٹریفک کی روانی متاثر ہونے اور سکیورٹی ہائی الرٹ کیے جانے کا امکان ہے
کیا حکومت مطالبات تسلیم کرے گی؟ معاشی ماہرین کی رائے
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف IMF کی سخت شرائط اور بجٹ خسارے کے باعث حکومت کے لیے 200 فیصد اضافہ منظور کرنا ممکن نہیں ہوگا۔ تاہم، ایپکا کی جانب سے اتنا بڑا مطالبہ اور احتجاج کا اعلان دراصل حکومت کو بجٹ میں ملازمین کے لیے 15 سے 25 فیصد تک کا معقول ریلیف دینے پر مجبور کرنے کی ایک حکمتِ عملی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ حکومت 2 جون کے احتجاج سے کیسے نمٹتی ہے اور بجٹ میں سرکاری ملازمین کو کیا ریلیف ملتا ہے

No comments:
Post a Comment