اسلام آباد: آئندہ مالی سال کے وفاقی بجٹ کی تیاریاں آخری مراحل میں داخل ہو چکی ہیں، جہاں ملکی معاشی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے اہم اور غیر معمولی فیصلے متوقع ہیں۔ ذرائع کے مطابق، ایک طرف جہاں ترقیاتی پروگراموں پر کٹ لگانے کی تجویز ہے، وہیں دفاعی ضروریات اور تنخواہ دار طبقے کے لیے بھی اہم ترین تجاویز زیر غور ہیں
بجٹ دستاویزات اور حالیہ معاشی مشاورت کے حوالے سے سامنے آنے والی تین بڑی اہم پیش رفت درج ذیل ہیں:
1. ترقیاتی بجٹ PSDP میں 126 ارب روپے کی کٹوتی
ملکی معاشی دباؤ کے باعث وفاقی حکومت نے پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام PSDP کے حجم میں مزید 126 ارب روپے کی کمی کی تجویز دی ہے۔ اس کٹوتی کا مقصد مالیاتی خسارے کو قابو میں رکھنا ہے۔ معاشی ماہرین کا ماننا ہے کہ اس کٹوتی کے باعث کئی غیر ترقیاتی اور نئے منصوبوں کو مؤخر کیا جا سکتا ہے، جبکہ صرف انتہائی اہم اور جاری منصوبوں کو ترجیح دی جائے گی
2. دفاعی بجٹ میں اضافے پر غور: 3 ہزار ارب تک پہنچنے کا امکان
ملک کی جغرافیائی صورتحال اور سیکیورٹی چیلنجز کو مدنظر رکھتے ہوئے، حکومت آئندہ مالی سال کے لیے دفاعی بجٹ کا حجم بڑھا کر 3 ہزار ارب روپے 3 ٹریلین تک لے جانے پر سنجیدگی سے غور کر رہی ہے۔ یہ اضافہ مسلح افواج کی آپریشنل تیاریوں اور ملکی دفاع کو مضبوط بنانے کے لیے ناگزیر قرار دیا جا رہا ہے
3. تنخواہ دار طبقے کے لیے خوشخبری: 50 ارب روپے کا ٹیکس ریلیف پیکج
بڑھتی ہوئی مہنگائی کے پیشِ نظر، حکومت کی جانب سے تنخواہ دار طبقے کو بڑی راحت دینے کی تیاری کی جا رہی ہے ذرائع کے مطابق، بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کے لیے 50 ارب روپے کے ٹیکس ریلیف پیکج کا امکان ہے۔ اس پیکج کے تحت انکم ٹیکس سلیبس میں ردوبدل کیا جا سکتا ہے جس سے متوسط اور لوئر مڈل کلاس سے تعلق رکھنے والے ملازمین کے ماہانہ ٹیکسوں میں واضح کمی آئے گی

No comments:
Post a Comment