نئ دہلی
مشہور بھارتی نژاد سویڈش پروفیسر اور بین الاقوامی امور کے تجزیہ کار اشوک سوین نے ایک ایسا انکشاف کیا ہے جس نے عالمی سیاست اور کاروباری دنیا میں ہلچل مچا دی ہے ان کے حالیہ دعوے کے مطابق، ایشیا کے امیر ترین شخص اور ریلائنس انڈسٹریز کے سربراہ مکیش امبانی نے ڈونلڈ ٹرمپ کے بیٹے، ڈونلڈ ٹرمپ جونیئر کے ایک اسٹارٹ اپ میں 100 ملین ڈالر تقریباً 840 کروڑ بھارتی روپے کی خطیر رقم لگائی ہے
بلاگرز اور سیاسی حلقوں میں اس خبر کو ایک بڑے "جیو پولیٹیکل سودے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے
ڈیل کے بدلے کیا ملا
اشوک سوین کا کہنا ہے کہ یہ بھاری سرمایہ کاری محض ایک کاروباری فیصلہ نہیں تھی، بلکہ اس کے پیچھے ایک گہرا سیاسی مقصد چھپا تھا۔ دعوے کے مطابق
روسی تیل کا تحفظ ریلائنس انڈسٹریز روس پر عائد عالمی پابندیوں کے باوجود بڑے پیمانے پر سستا روسی خام تیل خرید رہی ہے۔ اس تجارت کو امریکی پابندیوں کی زد سے بچانے کے لیے ٹرمپ خاندان کا تحفظ حاصل کیا گیا ہے
ٹرمپ انتظامیہ سے بیک چینل رابطے ڈونلڈ ٹرمپ کی امریکی سیاست اور ممکنہ طور پر وائٹ ہاؤس میں واپسی کے تناظر میں یہ سرمایہ کاری مستقبل کی امریکی پالیسیوں کو ریلائنس کے حق میں نرم رکھنے کی ایک مبینہ کوشش ہے
اشوک سوین کا بیان
"مکیش امبانی نے ٹرمپ جونیئر کے اسٹارٹ اپ کو 100 ملین ڈالر ادا کیے۔ بدلے میں انہوں نے روسی تیل کی بلا روک ٹوک خریداری جاری رکھنے کے لیے ٹرمپ کا تحفظ حاصل کر لیا ہے
جیو پولیٹیکل تناظر اور ریلائنس کا موقف
روس یوکرین جنگ کے بعد سے، بھارت نے مغرب کے دباؤ کو مسترد کرتے ہوئے روس سے ریکارڈ مقدار میں تیل خریدا ہے جس میں ریلائنس انڈسٹریز کی جام نگر ریفائنری کا بہت بڑا حصہ ہے
تاہم، ناقدین کا کہنا ہے کہ اشوک سوین اپنے مودی حکومت اور بھارتی کارپوریٹس مخالف بیانات کے لیے جانے جاتے ہیں۔ فی الحال ریلائنس انڈسٹریز یا ٹرمپ جونیئر کی تنظیم کی طرف سے اس مبینہ 'پیسے کے بدلے تحف ' Pay-for Protection کے سودے پر کوئی باضابطہ تصدیق یا تردید سامنے نہیں آئی ہے

No comments:
Post a Comment