اسلام آباد: جمیعت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے موجودہ سیاسی صورتحال اور حکومت کی پالیسیوں پر کڑی تنقید کرتے ہوئے ایک نیا پینڈورا باکس کھول دیا ہے۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ (PDM) کے پلیٹ فارم سے ہم نے ملک میں آئین کی بالادستی اور سول سپریمیسی کے لیے ایک طویل جدوجہد کی تھی۔ لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ جو لوگ اس تحریک کا حصہ تھے، آج وہی لوگ سب کچھ بھول چکے ہیں۔
انہوں نے موجودہ حکومت کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ حکومت میں شامل جماعتیں آج اسٹیبلشمنٹ کی چھتری تلے بیٹھی ہیں اور ان کی ہی خواہشات کے مطابق ملک کا نظام چلا رہی ہیں۔ مولانا فضل الرحمان نے مزید کہا کہ نہ صرف حکومت اسٹیبلشمنٹ کے اشاروں پر چل رہی ہے، بلکہ آئین پاکستان میں من مانی تبدیلیاں بھی انہی کے ایجنڈے کے مطابق کی جا رہی ہیں، جو کہ جمہوریت اور آئین کے ساتھ کھلواڑ ہے۔
سیاسی ماہرین کے مطاب
ق مولانا فضل الرحمان کے اس حالیہ بیان سے موجودہ حکومتی اتحاد (ن لیگ اور پیپلز پارٹی) کے لیے مشکلات کھڑی ہو سکتی ہیں، کیونکہ مولانا فضل الرحمان خود پی ڈی ایم کے سربراہ رہ چکے ہیں اور اب ان کا یہ موقف حکومت کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے۔

No comments:
Post a Comment